مرکزاطلاعات فلسطین
قابض صہیونی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے کمزور معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ 201 ویں روز بھی جاری ہے۔ قابض فوج مشرقی محلوں میں فضائی حملے، توپ خانے سے گولہ باری اور مکانات کو بارود سے اڑانے کے علاوہ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی ترسیل پر پابندیاں لگا کر محاصرے کو مزید سخت کر رہی ہے۔
غزہ شہر کے مغرب میں حیدر عبدالشافی چوک کے قریب ایک گاڑی پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے میں 3 فلسطینی شہری شہید ہو گئے۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس میں سوار تین شہری شہید اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔
اس سے قبل، جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس میں ابو حمید چوک پر اسرائیلی فضائی حملے میں 9 سالہ بچہ عادل لافی النجار شہید ہو گیا۔
مزید برآں شمالی اور مشرقی غزہ کی پٹی کے علاقوں بشمول بیت لاہیا، جبالیا کیمپ اور جنوبی غزہ میں خان یونس کے مشرقی علاقوں میں اسرائیلی توپ خانے سے گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں ایک فلسطینی خاتون زخمی ہو گئیں۔ یہ حملے قابض فوج کی جانب سے شدید عسکری نقل و حرکت کے دوران کیے گئے۔
فلسطینی وزارت صحت نے اپنی روزانہ کی شماریاتی رپورٹ میں اعلان کیا کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران غزہ کے ہسپتالوں میں ایک شہید اور پانچ زخمی لائے گئے ہیں، جبکہ متعدد شہداء کی لاشیں ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑی ہیں کیونکہ ایمبولینس اور شہری دفاع کا عملہ ہدف بننے والے مقامات تک پہنچنے سے قاصر ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 11 اکتوبر سنہ 2025ء کو سیز فائر کے بعد سے شہداء کی کل تعداد 818 اور زخمیوں کی تعداد 2301 ہو گئی ہے، اس کے علاوہ 762 لاشیں نکالنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہونے والی جارحیت کے بعد سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 72,594 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 172,404 ہے جو غزہ کی پٹی میں عام شہریوں پر قابض اسرائیل کی سفاکیت کی بھاری انسانی قیمت کو ظاہر کرتی ہے۔
متوازی طور پر فلسطینی وزارت صحت نے منگل کے روز غزہ کی پٹی اور شمالی غزہ میں ایک اور انسانی تباہی کے خطرے سے خبردار کیا ہے جو خطے میں کام کرنے والے واحد آکسیجن پلانٹ کے بند ہونے کے خدشے کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہے۔ وزارت نے عالمی اداروں اور متعلقہ فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مریضوں کی جان بچانے اور ہسپتالوں میں اہم طبی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے متبادل آکسیجن پلانٹس فراہم کرنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔
یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب رفح سرحدی گزرگاہ کے ذریعے نقل و حرکت پر پابندیوں، خوراک اور ادویات کے بحران کے باعث انسانی صورتحال مسلسل ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 20 لاکھ سے زائد فلسطینی محاصرے کی سخت پالیسی کے باعث انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
خان یونس میں سپلائی انٹیلیجنس نے منگل کے روز 20 ٹن منجمد چکن کو تلف کرنے کا اعلان کیا، جس کے بارے میں غزہ کی پٹی کے تجارتی راستے سے داخل ہوتے ہی ان کے خراب ہونے کی تصدیق ہو گئی تھی۔ متعلقہ حکام نے وضاحت کی کہ شہریوں کی صحت کی حفاظت اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت روکنے کے لیے ان مقداروں کو ضبط کر کے رائج طریقہ کار کے مطابق فوری طور پر تلف کر دیا گیا ہے۔


