غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے گلوبل صمود فلوٹیلا بحیرہ روم کے قریب، قابض اسرائیل الرٹ

0
12

مرکزاطلاعات فلسطین

غزہ کی پٹی کے گرد پھیلے سمندری پانیوں کی جانب گلوبل صمود فلوٹیلا کی پیش قدمی کے ساتھ ہی تمام تر نظریں مشرقی بحیرہ روم پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ یہ اقدام محض انسانی ہمدردی ہی نہیں بلکہ ایسے سیاسی پہلوؤں کا حامل ہے جو ایک بار پھر قابض اسرائیل کی ظالمانہ حصار کی پالیسی کو عالمی امتحان میں ڈال رہے ہیں۔ اس دوران ایسے اشارے ملے ہیں کہ تل ابیب ان بحری جہازوں کو روکنے اور انہیں غزہ کی پٹی تک پہنچنے سے باز رکھنے کے لیے طاقت کے استعمال کی تیاری کر رہا ہے۔

ایک طرف درجنوں ممالک سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے رضاکار محاصرہ توڑنے اور امداد پہنچانے کا نعرہ بلند کر رہے ہیں، تو دوسری جانب قابض اسرائیل کی سیاسی اور سکیورٹی تحرکات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غزہ کی سپلائی لائنوں پر اپنا غاصبانہ کنٹرول برقرار رکھنے پر بضد ہے۔ یہ صہیونی دشمن کے اس پرانے مینوفیکچرڈ طریقہ کار کا تسلسل ہے جس کے تحت وہ بین الاقوامی چینلز سے ہٹ کر آنے والے ہر بحری اقدام کو بزور قوت روکنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ بحری بیڑا، جس میں درجنوں جہاز اور سینکڑوں رضاکار شامل ہیں، گذشتہ اتوار کو اٹلی کے ساحلوں سے روانہ ہوا۔ اس سے قبل 12 اپریل سنہ 2026ء کو ہسپانوی شہر بارسلونا سے اس کے ابتدائی سفر کا آغاز ہوا تھا، جہاں سے سسلی کے جزیرے پہنچنے کے بعد مزید جہاز اس قافلے میں شامل ہوئے اور مشرقی بحیرہ روم کی جانب پیش قدمی شروع کی۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق یہ فلوٹیلا اس وقت یونان کے جزیرے کریت کے قریب پہنچ چکا ہے اور توقع ہے کہ رواں ہفتے کے آخر تک یہ غزہ کے ساحلوں کے قریب پہنچ جائے گا۔ قابض اسرائیل کے اندازوں کے مطابق اس بیڑے میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک ہزار رضاکار شامل ہیں اور جہازوں کی تعداد 58 سے 65 کے درمیان ہے، جن میں گرین پیس جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے معاون جہاز بھی شریک ہیں۔

دوسری جانب قابض اسرائیل کی حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو نے آج بدھ کے روز سیاسی و سکیورٹی امور کی کابینہ (کابینٹ) کے وزراء کے ساتھ مشاورت کی ہے تاکہ اس بیڑے کو روکنے کے طریقہ کار پر غور کیا جا سکے۔ یہ قدم دشمن کی جانب سے بیڑے کو روکنے کی سنجیدہ تیاریوں کی عکاسی کرتا ہے۔

قابض اسرائیل کے وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے اس مہم کی حمایت کرنے والے اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے من گھڑت دعویٰ کیا ہے کہ حماس اس مہم کے پیچھے ہے اور یہ قدم اس نام نہاد اقتصادی مہم کا حصہ ہے جو اسرائیلی سکیورٹی ادارے امریکہ کے تعاون سے غزہ میں استحکام کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کے خلاف چلا رہے ہیں۔

یسرائیل کاٹز نے مزید الزام لگایا کہ یہ فلوٹیلا ان بین الاقوامی فیصلوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے جن کے تحت امداد سرکاری راستوں سے آنی چاہیے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ مہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی تصفیے کی کوششوں میں رکاوٹ ہے، لہٰذا اس مہم کے فنڈز روکنے کے لیے پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔

یہ موجودہ کشیدگی اسرائیل کی ان کارروائیوں کے طویل ریکارڈ کی یاد دلاتی ہے جس میں اس نے سنہ 2007ء سے غزہ پر مسلط حصار کو توڑنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا۔ اس حوالے سے سنہ 2010ء میں عالمی پانیوں میں فریڈم فلوٹیلا پر ہونے والا خونی حملہ سب سے نمایاں ہے، جس میں متعدد انسانی حقوق کے علمبردار شہید ہوئے جن کی اکثریت ترک شہریوں کی تھی، اور اس واقعے نے ایک وسیع سفارتی بحران کو جنم دیا تھا۔

بعد کے برسوں میں بھی قابض دشمن نے اپنی اسی مستقل پالیسی کے تحت متعدد جہازوں پر قبضہ کیا اور بین الاقوامی رضاکاروں کو گرفتار کر کے ملک بدر کیا تاکہ غزہ کے بحری محاصرے کو برقرار رکھا جا سکے۔ اسی تناظر میں ستمبر سنہ 2025ء میں گلوبل صمود فلوٹیلا کی پہلی کوشش کو بھی اسرائیلی حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں سینکڑوں رضاکاروں کو گرفتار کر کے بے دخل کر دیا گیا تھا، جس سے موجودہ مہم کے حوالے سے بھی ویسے ہی خدشات جنم لے رہے ہیں۔

اس مہم میں شریک رضاکاروں کا کہنا ہے کہ ان کا یہ قدم عالمی حکومتوں کی جانب سے جنگ روکنے یا امداد پہنچانے میں ناکامی کے ردعمل میں ہے۔ ترک رضاکار علی دنيز نے امید ظاہر کی کہ وہ غزہ پہنچ کر وہاں کے معصوم بچوں سے مل سکیں گے، جبکہ ایک اطالوی خاتون رضاکار نے کہا کہ یہ مہم سرکاری سطح پر ہونے والے کام کے خلا کو پُر کرنے کے لیے ایک شہری اقدام ہے۔

اسی طرح ایک نوجوان جرمن رضاکار نے اپنی شرکت کو غزہ میں ہونے والے مظالم پر عالمی ملی بھگت کے خلاف احتجاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتے۔

یہ مہم ایک ایسے وقت میں چلائی جا رہی ہے جب غزہ کی پٹی سنہ 2007ء سے جاری ظالمانہ محاصرے کے باعث بدترین انسانی حالات کا شکار ہے۔ اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری نسل کشی کی جنگ نے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے اور لاکھوں فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا ہے، جبکہ ایندھن، ادویات اور غذائی امداد کی آمد پر کڑی پابندیاں عائد ہیں۔

اب جب کہ یہ بیڑا اپنی منزل کے قریب پہنچ رہا ہے، یہ سوال بدستور قائم ہے کہ کیا قابض اسرائیل طاقت کے استعمال کی اپنی پرانی روش دہرائے گا یا بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے باعث اس بار حالات مختلف ہوں گے۔