مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے کمزور معاہدے کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں، جہاں ایک طرف فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب مختلف علاقوں میں بمباری اور گھروں کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ بھی تھم نہ سکا ہے۔
شمالی غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیلی افواج کی گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں ایک فلسطینی پیرامیڈک شہید جبکہ ایک خاتون شدید زخمی ہو گئیں۔ طبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ پیرامیڈک ابراہیم صقر شمالی مغربی غزہ کی پٹی میں التوام چوک کے قریب قابض دشمن کی فضائی غارت گری کے نتیجے میں جام شہادت نوش کر گئے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ شمالی پٹی کے قصبے بیت لاہیا میں قابض اسرائیلیوں کی فائرنگ سے ایک خاتون زخمی ہوئیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانچ شہری شہید ہوئے جن میں سے ایک کی میت ملبے سے نکالی گئی، جبکہ سات دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی تعداد 823 ہو چکی ہے اور 2308 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ اس دوران ملبے کے نیچے سے 763 میتیں نکالی گئیں۔ وزارت نے واضح کیا کہ 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس وحشیانہ جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد 72,599 تک پہنچ گئی ہے اور زخمیوں کی تعداد 172,411 ہو چکی ہے، جس نے غزہ کے صحت اور انسانی ڈھانچے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
قابض اسرائیلی فوج مسلسل 202ویں روز بھی غزہ کی پٹی میں اس جنگ بندی معاہدے کی دھجیاں اڑا رہی ہے جو مصر کے شہر شرم الشیخ میں عرب اور امریکی ثالثی کے نتیجے میں طے پایا تھا اور 11 اکتوبر سنہ 2025ء کو نافذ العمل ہوا تھا۔ بدھ کے روز غزہ کے مختلف علاقوں میں وسیع فوجی کشیدگی دیکھی گئی جہاں قابض افواج نے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں میں رہائشی مکانات کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا، جبکہ کئی محوروں پر فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقوں میں اپنی پروازیں تیز کر دیں، جبکہ اسی دوران شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں پر بمباری کی گئی اور فوجی گاڑیوں سے اسی سمت میں شدید فائرنگ کی گئی۔ بوریج کیمپ کے مشرقی حصے میں اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹروں نے فائرنگ کی، جبکہ توپ خانے نے خان یونس کے مشرقی حصوں کو بار بار نشانہ بنایا۔ اسی تناظر میں وادی غزہ پل کے قریب اسرائیلی ڈرون طیارے نے پناہ گزینوں کے ایک گروپ پر بم گرایا، جبکہ خان یونس کے مشرق میں قابض افواج نے بڑے پیمانے پر گھروں اور سویلین املاک کو نسط و نابود کرنے کی کارروائیاں کیں۔ بیت لاہیا کے شمال مشرقی علاقوں میں بھی شدید فائرنگ اور توپ خانے کی گولہ باری کی گئی جس کے ساتھ ساتھ علاقے میں قابض فوج کی نقل و حرکت میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔


