مقبوضہ بیت المقدس میں صہیونی مظالم کا تسلسل، ناکہ بندیاں، گرفتاریاں اور شہریوں پر وحشیانہ حملے

0
5

مرکزاطلاعات فلسطین

مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں اور جارحیت میں سنگین اضافہ دیکھا گیا، جس میں شہریوں پر تشدد، گرفتاریاں، شہر بدری، تلاشی کی کارروائیاں، ناکہ بندیاں اور جرمانے شامل ہیں، جبکہ دوسری جانب غاصب آبادکار مستوطنوں نے بھی اپنی تخریب کاری جاری رکھی۔

القدس گورنری نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں واقع شعفاط پناہ گزین کیمپ میں قابض دشمن کے اہلکاروں نے نوجوان محمد العربی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے وہ چہرے پر شدید زخمی ہو گیا۔ محمد العربی کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اپنے معذور بھائی مہدی العربی کو صہیونی درندگی سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا، جسے دشمن نے پندرہ منٹ تک حراست میں رکھنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد رہا کیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ قابض اسرائیلی حکام نے مسجد اقصی کے محافظ اسماعیل صيام کو باب الاسباط کے قریب سے گرفتار کیا، جنہیں بعد ازاں اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ سات دن تک پرانے شہر سے دور رہیں گے اور بھاری جرمانہ بھی ادا کریں گے۔ اسی طرح اوقاف اسلامی کے ملازمین کو نشانہ بنانے کی پالیسی کے تحت مسجد اقصی کے ایک اور محافظ عمران الرجبی کو چھ ماہ کے لیے مسجد اقصی سے بے دخل کرنے کا ظالمانہ حکم جاری کیا گیا۔

سلوان کے علاقے میں قابض اسرائیلی بلدیہ کے ٹیکس عملے اور صہیونی فورسز کے دھاوے کے بعد الثوری محلے میں تمام تجارتی مراکز احتجاجاً بند کر دیے گئے۔ اس کارروائی کے دوران غاصب فوج نے فوجی چوکیاں قائم کر کے دکانوں اور گاڑیوں پر بھاری ٹیکس جرمانے عائد کیے۔

اسی تناظر میں حزما قصبے کے مضافات میں مین شاہراہ کے قریب غاصب مستوطنوں کے ایک گروہ نے فلسطینی چرواہوں سے ان کی بھیڑیں چھیننے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ چرواہوں پر حملوں اور مویشیوں کی چوری کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور القدس گورنری میں رواں سال کے آغاز سے اب تک 425 بھیڑیں چوری کی جا چکی ہیں۔

القدس گورنری نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام اقدامات ایک منظم اور سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد فلسطینی شہریوں کو جسمانی تشدد، گرفتاریوں، بے دخلی اور معاشی تنگ دستی کے ذریعے ان کی سرزمین اور ذرائع معاش سے محروم کرنا ہے۔