مرکزاطلاعات فلسطین
مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں قابض اسرائیل کی افواج کی سرپرستی میں وحشی صیہونی آبادکاروں نے فلسطینی شہریوں پر بزدلانہ حملے کیے جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی ہو گئے۔
ہلال احمر نے تصدیق کی ہے کہ الخلیل میں ان کے طبی عملے نے صیہونی آبادکاروں کے تشدد کا نشانہ بننے والے 3 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی۔ ان زخمیوں میں جبل جالس سے تعلق رکھنے والی ایک 71 سالہ معمر خاتون بھی شامل ہیں جنہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
خونخوار آبادکاروں نے الخلیل کے زرعی علاقوں پر دھاوا بولا اور فلسطینیوں کی املاک کو شدید نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ عشروں پرانے درجنوں درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا۔ مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ الخلیل کے جنوب میں واقع مسافر یطا کے علاقے خربہ رجوم اعلی میں بھی آبادکاروں نے نہتے شہریوں کی زمینوں پر حملہ کیا۔
اسی تناظر میں ہلال احمر نے بتایا کہ سلفیت میں ان کی ٹیموں نے جالود بستی میں آبادکاروں کے حملے میں زخمی ہونے والے 3 افراد کی مرہم پٹی کی۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب صیہونی جتھوں نے قابض اسرائیل کی فوج کی باقاعدہ حفاظت میں اپنے مویشی فلسطینیوں کے زیتون کے باغات میں چھوڑ دیے جس کی وجہ سے محمود ابراہیم العدرہ نامی شہری کے زیتون کے تقریبا 30 درخت ٹوٹ گئے یا اکھڑ گئے۔
سفاکیت کا یہ سلسلہ نابلس کے جنوب میں واقع قصرہ بستی تک بھی جا پہنچا جہاں آبادکاروں نے مرغی خانوں (پولٹری فارمز) پر حملہ کیا۔ قصرہ بلدیہ کے سربراہ عبد العظیم وادی نے بتایا کہ قصرہ اور جالود بستیوں کے درمیان واقع فارمز پر حملے کے بعد مقامی فلسطینیوں نے ہمت و جرات کے ساتھ ان کا راستہ روکا۔ اس موقع پر قابض اسرائیل کی افواج نے مداخلت کرتے ہوئے صیہونی شرپسندوں کی پشت پناہی کی اور فلسطینیوں پر آنسو گیس کے گولے برسائے جس سے علاقے میں تصادم کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
علاوہ ازیں سعیر بستی کے مشرق میں واقع حمروش کے علاقے میں بھی آبادکاروں نے تباہی مچائی۔ انہوں نے جان بوجھ کر اپنے ریوڑ فلسطینیوں کی فصلوں میں چھوڑ دیے جس سے وسیع پیمانے پر زرعی محاصیل تباہ ہو گئیں۔
متاثرہ فلسطینیوں اور مقامی رہنماؤں نے عالمی اداروں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ کسانوں اور چرواہوں کو ان منظم صیہونی حملوں اور نسل کشی کی کوششوں سے بچانے کے لیے فوری اور عملی مداخلت کریں۔


