مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کی فلسطینی اراضی پر نئی آباد کار سڑکیں بچھانے کے لیے ایک ارب شیکل (تقریباً 270 ملین ڈالر) سے زائد کے بھاری بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق ان سڑکوں کا بنیادی مقصد نئی ناجائز بستیوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا اور خطے میں صہیونی بستیوں کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
حکومتی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں ڈیزائننگ اور منصوبہ بندی کے لیے تقریبًا ایک ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے جس کے بعد ان منصوبوں کو حتمی منظوری کے لیے 45 روز کے اندر حکومت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان منصوبوں کے لیے فنڈز وزارت خزانہ کے بجٹ میں اضافی تخصیص کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے تاہم ان مقامات کی درست نشاندہی نہیں کی گئی جہاں سے یہ سڑکیں فلسطینی زمینوں کو چیرتی ہوئی گزریں گی۔
یہ فیصلہ بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کے سنہ 2022ء کے آخر میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے آباد کاری کی سرگرمیوں میں آنے والی غیر معمولی تیزی کے تسلسل میں سامنے آیا ہے۔
اقوام متحدہ ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے جہاں مقبوضہ بیت المقدس سمیت پورے مغربی کنارے میں تقریبًا ساڑھے سات لاکھ آباد کار رہائش پذیر ہیں اور یہ تمام پالیسیاں فلسطینی علاقوں کو ایک دوسرے سے کاٹنے اور صہیونی تسلط کو دوام دینے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔
یہ تحرکات اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی پر شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے ساتھ ساتھ جاری ہیں جس کے دوران قابض فوج اور غاصب آباد کاروں نے مغربی کنارے میں اپنی سفاکیت اور حملوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں اب تک 1100 سے زائد فلسطینی شہید اور تقریبًا 12 ہزار زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں شہریوں کو بڑے پیمانے پر چلائی جانے والی گرفتاری مہمات کے دوران قابض صہیونی عقوبت خانوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔


