مرکزاطلاعات فلسطین
فلسطینی مرکز برائے مفقودین و جبری گمشدہ افراد کی ڈائریکٹر ندی نبیل نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ادارے نے اب تک 500 سے زائد لاپتہ افراد کے کیسز کو دستاویزی شکل دی ہے جبکہ غزہ کی پٹی میں لاپتہ ہونے والے افراد کے حوالے سے لگ بھگ 4000 شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر مفقود افراد کی تعداد کا اندازہ 7000 سے 8000 کے درمیان ہے جن میں ملبے تلے دبے ہوئے افراد اور وہ لوگ شامل ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انہیں جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ ندی نبیل کے مطابق تقریباً 1500 کیسز ایسے ہیں جنہیں باقاعدہ طور پر جبری گمشدگی کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
ندی نبیل نے مرکزاطلاعات فلسطین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ لاپتہ ہونے والوں میں اکثریت مردوں اور نوجوانوں کی ہے جبکہ خواتین کی تعداد اس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے اس المناک پہلو کی طرف اشارہ کیا کہ لاپتہ ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت غائب ہوئی جب وہ انسانی امداد کے انتظار میں تھے، اس کے علاوہ وہ علاقے بھی متاثر ہوئے جہاں قابض اسرائیل کی جانب سے فوجی انخلاء کے احکامات جاری کیے گئے تھے یا جو خالی کرائے گئے علاقوں کے قریب واقع تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان بہت سے افراد میں قدرِ مشترک یہ تھی کہ وہ خوراک یا امداد کی تلاش میں نکلے تھے اور قابض صہیونی ریاست کی سفاکیت کا شکار ہو گئے۔
دستاویزی طریقہ کار
ندی نبیل نے بتایا کہ مرکز بنیادی طور پر متاثرہ خاندانوں کی جانب سے دی گئی شکایات پر انحصار کرتا ہے۔ ان کے بیانات سنے جاتے ہیں اور گمشدگی کے حالات و واقعات کے بارے میں باریک بینی سے تفصیلات جمع کی جاتی ہیں تاکہ ہر کیس کی ایک مکمل تصویر سامنے آ سکے۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ بعض حالات میں بیانات یا تفصیلات میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے تاہم ان کی بہت زیادہ دقت کے ساتھ جانچ پڑتال اور تصدیق کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔
میدانی چیلنجز
ندی نبیل کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا چیلنج اس فائل کے حوالے سے قابض اسرائیل کا ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرکز براہ راست قابض اسرائیل کے ساتھ رابطہ نہیں کرتا بلکہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے ذریعے معاملات آگے بڑھائے جاتے ہیں، لیکن تعاون کی سطح انتہائی محدود ہے اور اس سے کوئی حقیقی پیش رفت حاصل نہیں ہو رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی تنظیموں کو بھی قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر موجود اسیران یا مفقود افراد کے بارے میں کافی معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ غزہ کی پٹی کے نصف سے زیادہ رقبے پر قابض اسرائیل کا کنٹرول ہے جس کا مطلب ہے کہ وہاں وسیع علاقے ایسے ہو سکتے ہیں جہاں لاپتہ افراد ملبے تلے دبے ہوں یا وہ گرفتاری اور جبری گمشدگی کا شکار ہوئے ہوں جن کا تاحال انکشاف نہیں ہو سکا۔
مستقبل کے تعین میں دشواری
ندی نبیل نے اس کربناک حقیقت پر زور دیا کہ کئی خاندان ایسے ہیں جو مکمل طور پر لاپتہ ہو چکے ہیں اور ان کے بارے میں کوئی معلومات میسر نہیں۔ جو شخص بھی اب تک ملبے تلے دبا ہوا ہے اسے اس وقت تک مفقود ہی تصور کیا جائے گا جب تک اس کا جسدِ خاکی نکال کر خاندان کے ذریعے اس کی شناخت نہ ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری اور آلات دستیاب ہوں تو لاپتہ افراد کی قسمت کا فیصلہ بڑی حد تک تبدیل ہو سکتا ہے، لیکن غزہ میں ملبے کا حجم تقریباً 70 ملین ٹن لگایا گیا ہے جو تلاش کی کارروائیوں میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت سے خاندانوں کے پاس صرف ایک ہی اطلاع ہے کہ ان کا اپنوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے، جس کے بعد ان پیاروں کا مقدر موت، گرفتاری یا ملبے تلے دفن ہونے کے خدشات کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔
عالمی بے حسی
ندی نبیل نے اپنی گفتگو کا اختتام یہ کہتے ہوئے کیا کہ اب تک کسی بھی لاپتہ شخص کے انجام کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکا، نہ ہماری طرف سے اور نہ ہی اس شعبے میں کام کرنے والے کسی دوسرے ادارے کی جانب سے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریڈ کراس کا کردار صرف تربیت، رہنمائی اور کچھ فائلوں کی وصولی تک محدود ہے، ان کے پاس بھی کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کی طاقت نہیں۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اقوام متحدہ کی ٹیموں کے ساتھ تعاون اب بھی محدود اور روایتی ہے جس سے اس فائل میں کوئی حقیقی ترقی نہیں ہو رہی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس وقت سب سے بنیادی ضرورت قابض اسرائیل پر عالمی ریاستوں اور حکومتوں کا سیاسی دباؤ ہے کیونکہ مفقود افراد کے اس انسانی مسئلے کو تاحال وہ عالمی توجہ حاصل نہیں ہو سکی جس کا یہ متقاضی ہے۔


