مرکزاطلاعات فلسطین
ایک پیچیدہ معاشی منظرنامے میں قابض اسرائیل کے کرنسی شیکل کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، لیکن یہ کمی غزہ کی پٹی کے باسیوں کے لیے کسی ریلیف کے بجائے ایک اضافی بوجھ بن گئی ہے جو پہلے ہی بدترین معیشت اور انسانی بحران کا شکار ہیں۔
عام معاشی اصولوں کے برعکس جس میں ڈالر کی قیمت گرنے سے درآمدی اشیاء کی قیمتیں کم ہونی چاہئیں، اہل غزہ کو بازاروں میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔ قیمتیں بدستور آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جبکہ ان طبقات کی آمدن تیزی سے سکڑ رہی ہے جو اپنی تنخواہیں ڈالر میں وصول کرتے ہیں یا جن کی بچت ڈالر میں ہے۔ عربی جدید کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ کے باسیوں کی قوت خرید بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ایک بین الاقوامی ادارے میں کام کرنے والی ملازمہ دینا توفیق کہتی ہیں کہ ان کی تنخواہ اب وہ نہیں رہی جو پہلے تھی، حالانکہ کاغذی طور پر وہ اتنی ہی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ تبادلے کی شرح (ایکسچینج ریٹ) میں فرق اب تکلیف دہ حد تک بڑھ چکا ہے۔ جب انہوں نے معاہدہ کیا تھا تو ڈالر 3.37 شیکل کا تھا، جبکہ آج یہ گر کر 2.94 شیکل تک پہنچ گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ بغیر کسی معاوضے کے ان کی ماہانہ آمدن میں بھاری نقصان ہو رہا ہے۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ یہ نقصان ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اشیاء کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کو آمدن میں کمی اور اخراجات میں اضافے کی صورت میں دوہری ضرب کا سامنا ہے، جبکہ ڈالر کی قدر گرنے پر تلافی کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔
ڈالر میں بچت کرنے والے معمر شہری وائل جلالہ کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح تبادلے کی شرح میں ہر نئی گراوٹ کے ساتھ ان کی برسوں کی جمع پونجی ختم ہو رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے 4 شیکل کے قریب ڈالر جمع کیے تھے لیکن اب وہ انہیں 3 شیکل سے بھی کم ریٹ پر تبدیل کرانے پر مجبور ہیں، جس کا مطلب ہے کہ بغیر کسی اور ذریعہ معاش کے ان کی جمع پونجی کی قدر کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو چکا ہے۔
یہ تلخ حقیقت صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ ان بین الاقوامی امدادی اداروں تک پھیلی ہوئی ہے جو ڈالر میں فنڈز وصول کرتے ہیں اور پھر انہیں مقامی مارکیٹ میں شیکل میں تقسیم کرتے ہیں۔ جب انسانی ضروریات میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے، تب ان امدادی رقوم کی قدر میں کمی ایک بڑا المیہ بن کر ابھری ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قیمتوں کی منتقلی کے بگاڑ کی ایک واضح مثال ہے، جہاں تبادلے کی شرح میں ہونے والی تبدیلیوں کے فوائد صارف تک نہیں پہنچ رہے۔ اس کی وجوہات میں مقابلے کی کمی، رسد میں عدم استحکام، مارکیٹ میں متعدد کرنسیوں کا چلن اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات شامل ہیں جن کی وجہ سے تاجر قیمتیں کم کرنے کے بجائے انہیں برقرار رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس معاشی طرز عمل کو قیمتوں کا نیچے کی طرف سست روی یا جمود کہا جاتا ہے، یعنی اخراجات کم ہونے کے باوجود قیمتیں آسانی سے نیچے نہیں آتیں، لیکن ذرا سا اضافہ ہوتے ہی وہ تیزی سے اوپر چلی جاتی ہیں، جس سے صارفین کے مصائب بڑھ جاتے ہیں۔
اس حوالے سے معاشی ماہر سمیر ابو مدللہ بتاتے ہیں کہ فلسطین میں شیکل اور اردنی دینار کے ساتھ ڈالر ایک بنیادی کرنسی ہے، جو بین الاقوامی اداروں کی تنخواہوں، جائیداد و گاڑیوں کی خرید و فروخت، کرایوں، قرضوں کی ادائیگی اور درآمدات میں استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ عالمی سطح پر ڈالر کی گراوٹ کی وجوہات میں امریکی مانیٹری پالیسی، بڑی معیشتوں کی بہتری، قرضوں اور خسارے کے خدشات اور عالمی تجارتی نظام میں ڈالر پر انحصار کم کرنے کے رجحانات شامل ہیں۔
اگرچہ ڈالر کی قیمت گرنے سے درآمدی لاگت کم ہونی چاہیے تھی، لیکن غزہ کی مقید مقامی معیشت کی وجہ سے، جو قابض اسرائیل کے حصار، مقابلے کی کمی اور یومیہ معاملات میں شیکل پر حد سے زیادہ انحصار کا شکار ہے، اس کا کوئی مثبت اثر ظاہر نہیں ہو رہا۔
دوسری جانب معاشی ماہر نسیم ابو جامع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ڈالر میں تنخواہ لینے والے ملازمین اس گراوٹ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جنگ کے آغاز میں ایک ہزار ڈالر کی تنخواہ 4000 شیکل سے زائد بنتی تھی، جبکہ آج یہ 2940 شیکل سے زیادہ نہیں ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں زندگی گزارنے کے اخراجات میں کوئی کمی نہیں آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ قیمتیں بلند رہنے کی وجہ سے عام صارفین سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں، جبکہ کچھ تاجر لاگت میں ہونے والی کمی کا فائدہ مارکیٹ کو نہ پہنچا کر خود مستفید ہو رہے ہیں۔
جہاں ڈالر کی قیمت میں کمی کو معاشی حالات بہتر کرنے کا ایک موقع ہونا چاہیے تھا، وہاں غزہ میں یہ ایک نئے عنصر میں بدل گئی ہے جو بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ ایک کمزور معیشت، بگڑی ہوئی مارکیٹ اور موثر نگران آلات کی عدم موجودگی میں اہل غزہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک زیادہ تلخ معاشی حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔


