مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں بدھ کے روز تین شہری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ نوجوان محمد العطار دو دن قبل غزہ شہر میں الجلاء اور العیون سڑکوں کے سنگم کے قریب قابض اسرائیل کی بمباری میں زخمی ہوئے تھے، جو آج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
انہی ذرائع کے مطابق، شمالی غزہ میں قابض اسرائیل کی گذشتہ بمباری میں زخمی ہونے والے شہری خالد محمد سالم جودہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے۔
مزید برآں، پولیس اہلکار محمد الخطیب کی شہادت کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جو چند روز قبل غزہ شہر کے محلہ النصر میں قابض اسرائیل کے ڈرون حملے میں پولیس اہلکاروں کے ایک گروپ کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں زخمی ہوئے تھے۔
خان یونس میں شہر کے وسطی علاقے میں قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے دو شہری زخمی ہو گئے۔
اس کے ساتھ ہی، غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے مشرقی حصوں میں قابض اسرائیل کی عسکری گاڑیوں نے شدید فائرنگ کی، جبکہ اس دوران اسی علاقے کو توپ خانے سے بھی نشانہ بنایا گیا۔
قابض افواج نے بوجیج کیمپ کے شمال مشرقی علاقوں پر گولہ باری کی، جبکہ غزہ شہر کے مشرقی حصے میں رہائشی مکانات کو بارود سے اڑانے (نسف) کی کارروائیاں بھی کیں۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، جس میں بے گھر افراد کے ٹھکانوں پر فضائی اور توپ خانے سے بمباری، نام نہاد یلو لائن کے اندر مکانات کی تباہی اور مسماری کے ساتھ ساتھ سامان، امداد اور سفر کی نقل و حرکت پر پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ 10 اکتوبر سے سیز فائر کے آغاز کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 837 ہو چکی ہے، جبکہ 2365 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 768 جسد خاکی ملبے سے نکالے گئے ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس سفاکیت کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 72,168 فلسطینی شہید اور 172,468 زخمی ہو چکے ہیں، جو غزہ کی پٹی پر مسلط اس جنگ میں ہونے والے بھاری جانی نقصان کی عکاسی کرتا ہے۔


