مرکزاطلاعات فلسطین
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے سکیورٹی اداروں پر تنقید میں شدید اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں کا سلسلہ، مزاحمت کاروں اور کارکنوں کے خلاف مہم اور قابض اسرائیل کے ساتھ جاری سکیورٹی کوآرڈینیشن ہے۔ یہ پیش رفت نابلس کی جنید جیل کے اندر زیر حراست افراد کے خلاف نئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے انکشاف کے بعد سامنے آئی ہے۔
سیاسی اسیران کے اہل خانہ کی کمیٹی نے جنید جیل کے اندر سیاسی قیدیوں کے ساتھ برتے جانے والے سنگین سلوک اور وحشیانہ تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے اتھارٹی کے سکیورٹی اداروں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپوزیشن اور مزاحمت کاروں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک منظم پالیسی کے تحت تشدد اور تذلیل کا سہارا لے رہے ہیں۔
کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تشدد کے طریقے حیران کن حد تک بڑھ چکے ہیں، جس کی ایک مثال سیاسی اسیر سلیمان الشامی کے اہل خانہ کا انکشاف ہے کہ انہیں جیل کے اندر اس قدر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ ان کے پاؤں جھلس گئے۔
کمیٹی نے ان واقعات کو ایک مکمل جرم اور سکیورٹی اداروں کے اندر اخلاقی اور قومی زوال کی علامت قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ خلاف ورزیاں اب انفرادی واقعات نہیں رہیں بلکہ آزاد منش شہریوں اور رائے رکھنے والوں کے خلاف ایک منظم جبر کی پالیسی میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلسطینی عوام میں اتھارٹی کے سکیورٹی اداروں کے کردار کے حوالے سے بحث تیز ہو گئی ہے، جو مغربی کنارے کے شہروں میں مزاحمت کاروں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف گرفتاریوں اور طلبیوں کی مہم چلا رہے ہیں۔ فلسطینی دھڑوں اور قوتوں نے اسے قابض اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی کوآرڈینیشن کی پالیسی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔
کمیٹی نے اتھارٹی کے اداروں پر الزام لگایا کہ انہوں نے 70 سے زائد سیاسی افراد کو قید کر رکھا ہے، باوجود اس کے کہ عدالتوں نے ان میں سے کئی کی رہائی کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ عدالتی فیصلوں کو نظرانداز کرنا اس جبر اور آوازوں کو دبانے والے طریقہ کار کو بے نقاب کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سیاسی گرفتاریوں اور جیلوں میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کا تسلسل ایک قومی اور اخلاقی بدنما داغ ہے، جو فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے بجائے ان کے خلاف سکیورٹی اداروں کی خطرناک سرکشی کی عکاسی کرتا ہے۔
کمیٹی نے تمام سیاسی اسیران کی فوری رہائی، گرفتاریوں اور سکیورٹی طلبیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کے اداروں اور میڈیا کو جیلوں کے دورے کرنے اور اسیران کی حالت زار دیکھنے کی اجازت دی جائے۔
کمیٹی نے قومی قوتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوامی شخصیات سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ان جرائم اور خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدام کریں اور اسیران کی عزت و حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ ان پالیسیوں کا تسلسل فلسطینی قومی اتحاد کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
گذشتہ مہینوں کے دوران اتھارٹی کے سکیورٹی اداروں پر جنین، نابلس اور طولکرم میں مزاحمت کاروں کے تعاقب کے الزامات میں شدت آئی ہے، جبکہ دوسری جانب قابض اسرائیل کی دراندازی، ٹارگٹ کلنگ اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس صورتحال نے فلسطینی دھڑوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے جن کا ماننا ہے کہ سکیورٹی کوآرڈینیشن اب مزاحمت کو نشانہ بنانے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔


