اسپین کا عالمی فوجداری عدالت کے تحفظ کا مطالبہ

0
4

مرکزاطلاعات فلسطین

اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی کمیشن پر زور دیا ہے کہ وہ نام نہاد تعطل کے طریقہ کار کو فعال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے، تاکہ عالمی فوجداری عدالت کے ججوں اور استغاثہ کو بیرونی دباؤ اور پابندیوں سے تحفظ فراہم کیا جا سکے، خاص طور پر ان پابندیوں کے تناظر میں جو غزہ کی پٹی میں جاری تحقیقاتی فائل سے وابستہ ہیں۔

ہسپانوی مطالبہ اس طریقہ کار کو ایک خود مختار آلے کے طور پر استعمال کرنے پر مرکوز ہے جو یورپی یونین کو دیگر ممالک کی جانب سے جاری کردہ فیصلوں اور پابندیوں کے اثرات کو روکنے کی اجازت دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ اس کے اداروں کی آزادی کو متاثر کریں یا اس کے عدالتی اداروں کے کام میں رکاوٹ بنیں۔

یہ اقدام سنہ 2025ء کے آغاز سے امریکہ کی جانب سے لگائی گئی ان پابندیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے جن میں عدالت کے تقریباً 11 ججوں اور پراسیکیوٹرز کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے، کیونکہ وہ فلسطینیوں کے خلاف قابض اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کے الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

سانچیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے سرکاری بیانات میں اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی انصاف کے علمبرداروں کو پابندیوں کے ذریعے نشانہ بنانا عالمی انسانی حقوق کے نظام کے لیے براہ راست خطرہ ہے، انہوں نے اس بات کی بھی تائید کی کہ ان اقدامات کے خلاف یورپی خاموشی اب مزید قابل قبول نہیں۔

انہوں نے یورپی یونین کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں اور عدالتی عمل کو سیاسی رکاوٹوں کی کوششوں سے بچانے کے لیے مداخلت کریں۔

ہسپانوی حکومت کے سربراہ کا خیال ہے کہ تعطل کے طریقہ کار کو فعال کرنا اقوام متحدہ اور عالمی فوجداری عدالت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ایک فیصلہ کن قدم ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں، خاص طور پر غزہ میں ڈھائے جانے والے مظالم اور سنگین جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مؤثر یورپی ردعمل کی عدم موجودگی سزا سے بچنے کے کلچر کو تقویت دے گی اور بین الاقوامی قانون کے نفاذ کے لیے عدالتی اداروں کی صلاحیت پر عالمی برادری کے اعتماد کو کمزور کر دے گی۔

یہ اقدام بین الاقوامی احتساب کے طریقہ کار سے نمٹنے کے حوالے سے مغربی کیمپ کے اندر بڑھتے ہوئے تضاد کی عکاسی کرتا ہے، جہاں میڈرڈ ایک سخت یورپی موقف کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو سیاسی دباؤ اور بین الاقوامی انصاف کے تحفظ کے تقاضوں کے درمیان توازن پیدا کرے، یہ ایک ایسا لمحہ ہے جسے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں سے یورپی یونین کی وابستگی کا حقیقی امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔