لبنان پر قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت، درجنوں شہداء، زخمی اور وسیع پیمانے پر تباہی

0
7

مرکزاطلاعات فلسطین

لبنان پر قابض اسرائیلی دشمن کی تازہ ترین اور وحشیانہ جارحیت کے نتیجے میں دو خواتین سمیت 4 شہری جام شہادت نوش کر گئے جبکہ 8 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ قابض اسرائیل نے جنوبی لبنان کے درجنوں دیہاتوں اور قصبوں کو نشانہ بناتے ہوئے عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا ہے۔

لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ صور شہر کے قصبے طورا پر قابض فوج کے فضائی حملے میں ابتدائی طور پر 4 شہداء اور 8 زخمیوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ملبے تلے دبی ایک لاپتہ لڑکی کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔

لبنانی میڈیا کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ کفر شوبا، حومین التحتا، دیر انطار، الزراریہ، بلاط اور عین بعال جیسے قصبوں پر قابض دشمن کے فضائی حملوں میں متعدد شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔

اسی دوران قابض اسرائیل کی فوج نے صور شہر کے شمال میں واقع قصبے عباسیہ کے مکینوں کو فوری علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم نامہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنانی فضائی حدود میں قابض اسرائیل کے ڈرون طیاروں کی پروازیں جاری ہیں اور جنوبی لبنان کے درجنوں دیہاتوں پر گولہ باری کا سلسلہ تھم نہ سکا ہے۔

جمعہ کے روز قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان پر شدید فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا جس کے ساتھ ساتھ وسیع علاقوں پر توپ خانے سے گولہ باری بھی کی گئی۔

حاصبیا کے علاقے میں کفر شوبا اور کفر حمام کے درمیان سڑک پر سفر کرنے والی ایک گاڑی کو قابض اسرائیل کے ڈرون طیارے نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں لبنانی شہری دفاع کا ایک اہلکار شہید ہو گیا۔

یہ واقعہ لبنانی سرحدی علاقوں میں کام کرنے والے امدادی اور طبی عملے پر ہونے والے ان مسلسل حملوں کا تسلسل ہے جو قابض دشمن کی سفاکیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

قابض افواج نے نميریہ، طير فلسيہ، حلوسيہ، طورا اور معرکہ کے قصبوں کے باسیوں کے لیے جبری انخلاء کے نئے احکامات جاری کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔

یہ جبری انخلاء المنصوری اور بیوت السياد کے مضافات میں ہونے والی شدید گولہ باری کے ساتھ کیا گیا جس کی وجہ سے شہریوں کی ایک بڑی تعداد محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

مزید برآں قابض اسرائیل کی ایک فوجی ٹکڑی نے فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں کی مدد سے صبح سویرے شدید گولہ باری کی آڑ میں بیوت السياد کے علاقے کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی۔

اس پیش قدمی کے دوران اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا تاکہ مختلف محاذوں پر ہونے والی جھڑپوں کے درمیان نئے فوجی پوائنٹس قائم کیے جا سکیں۔

بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیلی طیاروں نے ریڈ کراس اور لبنانی فوج کی ایمبولینس ٹیموں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ زبقین کے قصبے کی طرف جا رہی تھیں۔

یہ ٹیمیں گذشتہ حملے میں گرنے والے شہداء کے جسدِ خاکی نکالنے اور زخمیوں کو بچانے کی کوشش کر رہی تھیں مگر اسرائیلی بمباری نے انہیں جائے وقوعہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

نبطیہ کے علاقے میں سب سے زیادہ فضائی حملے کیے گئے جہاں جنگی طیاروں نے شہر اور اس کے گردونواح کے دیہاتوں سمیت دریائے لیطانی کے شمالی کنارے تک کے علاقوں کو نشانہ بنایا۔

طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ رات گئے الدوير، حاروف اور حبوش کے قصبوں پر کیے گئے تین فضائی حملوں میں 10 افراد شہید اور تقریباً 40 زخمی ہوئے ہیں۔