مرکز اطلاعات فلسطین
مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی سفاکیت اور نام نہاد چراگاہی و زرعی بستیوں کی توسیع کے تناظر میں بدوؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم البیدر نے گذشتہ اپریل کے مہینے میں بدوئی بستیوں اور فلسطینی دیہاتوں کے خلاف 690 خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے۔ یہ حملے قابض اسرائیلی افواج اور مسلح آباد کاروں نے مشترکہ طور پر انجام دیے ہیں، جس کے بارے میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ فلسطینیوں اور ان کی زمینوں کے خلاف منظم جبری بے دخلی کی پالیسی کا حصہ ہے۔
تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی بستیوں کو جس صورتحال کا سامنا ہے وہ محض اکا دکا حملے نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک ایسی منظم پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد مغربی کنارے میں آبادیاتی اور جغرافیائی حقائق کو تبدیل کرنا ہے۔ اس سازش کے تحت رہائشیوں پر عرصہ حیات تنگ کر کے انہیں نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف غیر قانونی بستیوں کو وسعت دے کر زمین پر نئے حقائق مسلط کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں فائرنگ، جسمانی تشدد، پیپر سپرے کا استعمال اور جان سے مارنے کی دھمکیاں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ گھروں، خیموں اور گاڑیوں کو آگ لگانے، زرعی آلات اور نجی املاک کی چوری سمیت متعدد بدوئی بستیوں میں پانی اور بجلی کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے کی وارداتیں بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔
تنظیم نے زرعی زمینوں کی بڑے پیمانے پر مسماری اور زیتون کے ہزاروں درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کارروائیوں کا بھی مشاہدہ کیا ہے، جس سے فلسطینیوں کے ذرائع معاش کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مزید برآں، دیہاتوں اور بستیوں پر آباد کاروں کے حملوں کے دوران بچوں کے زخمی ہونے کے واقعات بھی درج ہوئے ہیں۔
سب سے سنگین حملوں میں سے ایک کا ذکر کرتے ہوئے تنظیم نے بتایا کہ رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع گاؤں المغیر میں ایک سکول کے قریب مسلح حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں شہادتیں ہوئیں اور ایک بچے سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔
اس کے متوازی رپورٹ میں چراگاہی بستیوں کی تعمیر میں تیزی کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں آباد کاروں نے نابلس، الخلیل، رام اللہ، وادی اردن اور مقبوضہ بیت المقدس گورنری کے مختلف علاقوں میں خیمے، کیبن اور مویشیوں کے باڑے قائم کر لیے ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار فلسطینی زمینوں پر بتدریج قبضے، بدوئی بستیوں کو الگ تھلگ کرنے اور وہاں کے باسیوں کو ہجرت پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
تنظیم نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ صرف ایک ماہ کے دوران ریکارڈ کی گئی خلاف ورزیوں کی یہ تعداد مغربی کنارے میں زمین اور فلسطینی وجود کو نشانہ بنانے والی منظم تصعید کی عکاسی کرتی ہے۔ چراگاہی بستیوں کا بڑھتا ہوا کردار دراصل آباد کاری کو وسعت دینے اور وسیع رقبے پر غاصبانہ تسلط قائم کرنے کا ایک دانستہ حربہ ہے۔


