قابض صہیونی عقوبت خانوں میں انسانیت سوز سلوک کے لرزہ خیز انکشافات

0
7

مرکز اطلاعات فلسطین

قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید تحریک آزادی کے ممتاز رہنما حسن سلامہ نے اسرائیلی جیلوں کے اندر فلسطینی اسیران کے ساتھ روا رکھے جانے والے انسانیت سوز اور لرزہ خیز سلوک کی تفصیلات منظر عام پر لائی ہیں۔ یہ تفصیلات ان کی منگیتر غفران الزامل کی جانب سے نقل کیے گئے ایک پیغام کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔

غفران الزامل نے حسن سلامہ کے حوالے سے بتایا کہ قابض اسرائیل کے قید خانوں میں فلسطینی اسیران کے حالات زندگی انتہائی سنگین، پرمشقت اور توہین آمیز ہیں۔ صہیونی جیل انتظامیہ بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اسیران کے خلاف مسلسل وحشیانہ اقدامات کر رہی ہے۔

اسیر حسن سلامہ نے اپنے پیغام میں انکشاف کیا کہ صہیونی جلاد اسیران کے ساتھ انتہائی تذلیل آمیز سلوک کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی غلام ہوں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تلاشی کے بہانے فلسطینی اسیران کو مکمل طور پر برہنہ کر دیا جاتا ہے جو کہ انسانی وقار پر بدترین حملہ ہے۔

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے حسن سلامہ تحریک مقاومت اسلامی حماس کے صف اول کے قائدین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ سنہ 1996ء سے قابض اسرائیل کی قید میں ہیں اور انہیں صہیونی عدالتوں کی جانب سے کئی بار عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

اسیر حسن سلامہ ایک نامور فلسطینی عسکری کمانڈر ہیں جنہوں نے پہلی تحریک انتفاضہ میں بھرپور حصہ لیا اور حماس کے عسکری ونگ کے کلیدی رہنما بنے۔ قابض اسرائیل نے ان پر درجنوں فوجیوں اور آباد کاروں کو ہلاک و زخمی کرنے والی کارروائیوں کی ذمہ داری عائد کی، جس کے بعد انہیں مقدس انتقامی کارروائیوں کا ہیرو قرار دیا گیا۔ قابض دشمن نے انہیں مجموعی طور پر 48 بار عمر قید کی سزا سنائی اور سنہ 2011ء میں ہونے والے اسیران کے تبادلے کے معاہدے میں بھی انہیں رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

حسن سلامہ نے متعدد ایسی عسکری کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جس نے غاصب صہیونی دشمن کو جانی و مالی طور پر ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ان کارروائیوں کے بعد قابض اسرائیل نے ان کی گرفتاری کے لیے چھاپوں، تعاقب اور جاسوسی کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا اور غزہ و مغربی کنارے کا اسی مقصد کے لیے محاصرہ کیا گیا۔ اس وقت سلامہ صہیونی ریاست کی مطلوب ترین افراد کی فہرست میں سر فہرست تھے۔

ایک طویل تعاقب کے بعد قابض اسرائیل کی ایک فوجی چوکی نے اچانک انہیں روکنے کی کوشش کی، جس پر وہ گاڑی سے اتر کر بھاگنے میں کامیاب ہو گئے تاہم صہیونی فوجیوں نے ان پر اندھا دھند گولیاں برسائیں جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ قریبی فلسطینیوں نے انہیں الخلیل کے شہر میں واقع عالیہ ہسپتال پہنچایا جہاں وہ فوری طور پر آپریشن تھیٹر منتقل کر دیے گئے۔ قابض اسرائیل نے ہسپتال پر دھاوا بول کر زخمی حالت میں انہیں 17 مئی سنہ 1996ء کو اغوا کر کے اسیر کر لیا۔