مرکز اطلاعات فلسطین
مقبوضہ القدس پر غاصبانہ قبضے کی 59 ویں عبرانی برسی کے موقع پر، قابض اسرائیل کی جانب سے ایسی سازشوں کے حوالے سے فلسطینیوں کی جانب سے شدید انتباہات جاری کیے جا رہے ہیں جنہیں القدس پر قبضے کے بعد سے اب تک کی خطرناک ترین کوششیں قرار دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں ایسے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ قابض حکومت اور ہیکل تنظیمیں مسجد اقصیٰ کے اندر نئے حقائق مسلط کرنے کے درپے ہیں، جس میں سنہ 1967 کے بعد پہلی بار جمعہ کے روز مسجد پر دھاوا بولنا اور قبلہ اول پر زمانی و مکانی قبضے کے دائرہ کار کو وسعت دینا شامل ہے۔
ایک ہنگامی پکار میں ’ القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن‘ نے خبردار کیا ہے کہ 14 اور 15 مئی سنہ 2026 (جمعرات اور جمعہ) کے ایام مسجد اقصیٰ کے خلاف ایک بے مثال جارحیت کے گواہ بن سکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق قابض دشمن جاری جنگ اور مسلسل سفاکیت کے ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجد کے اندر تاریخی تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ قابض حکام کو انتہا پسند دائیں بازو کے وزراء اور سیاسی شخصیات کی مکمل حمایت حاصل ہے، جو تین مرحلہ وار اہداف پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا آغاز بڑے پیمانے پر دھاووں، تلمودی رسومات کی ادائیگی اور مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں اسرائیلی جھنڈے لہرانے سے ہوگا، جس کا حتمی مقصد جمعہ کے روز دھاوا بولنے کی روایت ڈالنا ہے۔ اس کا مطلب مسجد اقصیٰ کے اندر جمعہ کے دن کی اسلامی خصوصیت کو ختم کرنا اور آباد کار گروہوں کے اس دعوے کو تقویت دینا ہے کہ مسجد پر آباد کاروں کا بھی (نعوذ باللہ) مساوی حق ہے۔
جمعہ کے روز دھاوا بولنے کی کوششیں
فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ تجزیااتی رپورٹ کے مطابق، سب سے خطرناک منصوبہ جمعہ کے روز آباد کاروں کا دھاوا مسلط کرنے کی کوشش ہے، جو القدس پر قبضے کے بعد سے اب تک کی تاریخ میں ایک ایسی مثال ہوگی جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ادارہ اسے مسجد اقصیٰ کی زمانی تقسیم کو مستقل بنیادوں پر نافذ کرنے کی جانب ایک خطرناک موڑ قرار دیتا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہیکل تنظیموں نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران جمعہ کے دن اقصیٰ پر دھاوا بولنے کی مہم میں تیزی لائی ہے۔ اس سلسلے میں بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کے وزراء اور کنیسٹ کے ارکان کی جانب سے شدید سیاسی دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔ 22 اسرائیلی سیاست دانوں، جن میں لیکوڈ پارٹی کے 19 ارکان اور 9 وزراء شامل ہیں، نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یا تو جمعہ کو دھاوے کی اجازت دی جائے یا پھر دھاووں کے اوقات میں طویل توسیع کی جائے۔
فاؤنڈیشن کا خیال ہے کہ یہ تحریک حکمراں اتحاد کے اندر اس اتفاق رائے کی عکاسی کرتی ہے کہ اقصیٰ کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات کو تیز کیا جائے، خاص طور پر اسرائیلی انتخابات کے قریب آتے ہی ایتمار بن گویر جیسی شخصیات اقصیٰ سے وابستہ ’علامتی کامیابیوں‘ کے ذریعے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ قابض دشمن نماز عصر کے بعد دھاوے کا ایک نیا دورانیہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے روزانہ کے دھاووں کا وقت ساڑھے چھ گھنٹے سے بڑھ کر نو گھنٹے تک پہنچ جائے گا۔ یہ اقدام مسجد کی زمانی تقسیم کو وسعت دینے کی جانب ایک اور قدم ہے۔ ان کوششوں کا مقصد آباد کاروں کے ’پرچم مارچ‘ کو براہ راست مسجد اقصیٰ سے جوڑنا ہے تاکہ آباد کاروں کی شرپسندانہ سرگرمیاں پرانی بستی سے پھیل کر شام کے وقت مسجد کے صحنوں تک پہنچ جائیں۔
ادارے نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ قابض اسرائیل کا وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر ایک تلمودی فتویٰ حاصل کرنے کے بعد اقصیٰ کی چھت والی عمارتوں، بالخصوص قبتہ الصخرہ اور جامع القبلی کے اندر گھسنے کی جسارت کر سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اس ’اسرائیلی خودمختاری‘ کا پرچار کرنا ہے جس کا دعویٰ آباد کار گروہ کرتے ہیں، اور اردن کے اسلامی اوقاف کے بقیہ کردار کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔
پرچم مارچ اور خودمختاری کا مظاہرہ
اسی سیاق و سباق میں، مقبوضہ القدس میں ’پرچم مارچ‘ کے لیے اسرائیلی تیاریاں عروج پر ہیں، جس میں توقع ہے کہ ہزاروں آباد کار پرانی بستی کی گلیوں اور مسجد اقصیٰ کے دروازوں کے گرد و نواح سے گزریں گے۔ اس دوران فلسطینیوں اور ان کی املاک پر حملوں کے شدید خدشات موجود ہیں۔
یہ مارچ ان سرگرمیوں کا حصہ ہے جو قابض حکام ہر سال سنہ 1967 میں مشرقی القدس پر قبضے کی یاد میں منعقد کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ عام طور پر اقصیٰ پر بڑے پیمانے پر دھاوے اور صحنوں میں تلمودی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ اس سال قابض دشمن روایتی دھاووں سے آگے بڑھ کر مسجد کے اندر اسرائیلی جھنڈے لہرا کر، قومی ترانے گا کر اور اجتماعی طور پر ’سجدہ ملحمی‘ کر کے اپنی نام نہاد خودمختاری کے مظاہرے کو تیز کرنا چاہتا ہے۔
اس کے برعکس القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے فلسطینیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ القدس، مقبوضہ فلسطین کے دیگر علاقوں اور مغربی کنارے سے مسجد اقصیٰ اور پرانی بستی کی جانب بڑے پیمانے پر رخ کریں۔ ادارے کا ماننا ہے کہ فلسطینیوں کی کثیر تعداد میں موجودگی ہی وہ سب سے بڑا عنصر ہے جو اسرائیلی منصوبوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
ادارے نے زور دے کر کہا کہ ماضی کے تجربات خاص طور پر باب الاسباط کی تحریک اور سنہ 2021 میں معرکہ ’سیف القدس‘ نے ثابت کیا ہے کہ عوامی رباط اور بڑے پیمانے پر عوامی موجودگی نے ہمیشہ مسجد کے اندر قابض دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا ہے۔ ادارے نے امت کے علماء، سیاسی و حقوقی شخصیات اور میڈیا سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ پر ہونے والی اس تاریخی جارحیت کے خلاف فوری طور پر متحرک ہوں اور حرم قدسی کی موجودہ صورتحال میں کسی بھی تبدیلی کے خطرناک نتائج سے خبردار کریں۔


