اسرائیلی جاسوس ٹیکنالوجی کے ذریعے اسٹار لنک صارفین کی نگرانی، عالمی سطح پر شدید تحفظات کا اظہار

0
4

مرکز اطلاعات فلسطین

قابض اسرائیل کے اخبار ہارٹز نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی سائبر جاسوسی کرنے والی کمپنیوں نے ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے جو دنیا بھر میں اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس استعمال کرنے والے صارفین کا سراغ لگانے، ان کی شناخت کرنے اور ان کے جغرافیائی مقامات کا تعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس انکشاف نے دنیا بھر میں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاسی مخالفین اور جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے والے افراد کی سلامتی کے حوالے سے وسیع پیمانے پر خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اس وقت یوکرین کی جنگ، ایران کے مظاہروں اور غزہ میں امدادی سرگرمیوں جیسے حساس معاملات میں استعمال کی جا رہی ہے، جہاں انٹرنیٹ کی بندش یا رسائی پر پابندیوں کے باعث بہت سے لوگ رابطے کے واحد ذریعے کے طور پر اسٹار لنک پر انحصار کرتے ہیں۔

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ان نظاموں کو تیار کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک قابض اسرائیل کی ٹارگٹ ٹیم ہے، جس کا صدر دفتر قبرص میں ہے۔ اس کمپنی نے اسٹار گیٹس کے نام سے ایک سسٹم تیار کیا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ یہ تقریباً دس لاکھ اسٹار لنک آلات کی نگرانی کرنے اور 55 لاکھ منسلک آلات تک انٹرنیٹ کی رسائی کا سراغ لگانے کے ساتھ ساتھ تقریباً دو لاکھ آلات کی شناخت ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری کمپنی رائزون ہے، جو ایک اسرائیلی الیکٹرانک انٹیلی جنس کمپنی ہے اور ڈیٹا کے تجزیے و انٹیلی جنس ٹولز کے وسیع تر نظام کے تحت ایسی ہی صلاحیتیں فروخت کرتی ہے۔ یہ کمپنی قابض اسرائیل کی وزارتِ جنگ کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔

اخبار کے مطابق یہ ٹیکنالوجیز اسٹار لنک نیٹ ورک کو ہیک کرنے یا اس کے سگنلز کو براہ راست روکنے پر انحصار نہیں کرتیں، بلکہ یہ ڈیٹا انٹیگریشن یعنی ڈیٹا کو یکجا کرنے کے طریقہ کار پر مبنی ہیں۔ اس میں بڑی مقدار میں ڈیجیٹل ڈیٹا اور جغرافیائی محل وقوع کے ڈیٹا کو جمع کیا جاتا ہے تاکہ مواصلاتی اسٹیشنوں کے نقشے تیار کیے جا سکیں اور الیکٹرانک سرگرمیوں کو صارفین کی اصل شناخت سے جوڑا جا سکے۔

اس عمل میں اشتہارات کی شناخت، براؤزنگ کے اثرات، سوشل میڈیا کی سرگرمیوں اور موبائل مواصلات کے ڈیٹا کا تجزیہ شامل ہے۔ یہ تبدیلی سائبر انٹیلی جنس کے شعبے میں اس بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں پیگاسس جیسے روایتی جاسوسی ٹولز کے بجائے بگ ڈیٹا یعنی بڑے پیمانے پر ڈیٹا کے تجزیے پر انحصار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ نظام دہشت گردی کے خلاف جنگ، پابندیوں کے نفاذ اور قومی سکیورٹی کے نام پر متعدد حکومتوں کو فروخت کیے گئے ہیں۔ مارکیٹنگ مواد اور عملی مظاہروں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ نظام مشرق وسطیٰ، خلیج، روس، چین اور یہاں تک کہ سمندری علاقوں میں بھی آلات کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسٹار لنک نیٹ ورک کی توسیع کے ساتھ سیٹلائٹ کے روایتی سگنلز روکنے کی ٹیکنالوجی کم موثر ہو گئی ہے۔ اسٹار لنک کے نچلے مدار میں 8 ہزار سے زائد سیٹلائٹ موجود ہیں، جس کی وجہ سے صارفین کی نگرانی اب بنیادی طور پر ڈیٹا کے تجزیے اور مختلف ڈیجیٹل سرگرمیوں کے درمیان تعلق قائم کرنے پر منحصر ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سکیورٹی لیب کے سربراہ دونتشا او سیربہیل نے ان صلاحیتوں کے صحافیوں، کارکنوں اور جنگ زدہ علاقوں یا انٹرنیٹ پر پابندیاں عائد کرنے والے ممالک میں رہنے والے شہریوں کے لیے خطرات سے خبردار کیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اسٹار لنک جیسی سیٹلائٹ خدمات اکثر محصور افراد یا مسلح تنازعات اور مواصلات کی وسیع تر بندش کا شکار علاقوں میں رہنے والوں کے لیے رابطے کا آخری ذریعہ ہوتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں صارفین کا سراغ لگانے کی کوئی بھی صلاحیت ان کی سکیورٹی اور سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔