ایتمار بن گویر کا لبنان میں بستیوں کے قیام اور غزہ و مغربی کنارہ سے فلسطینیوں کی جبری ہجرت کا منصوبہ

0
6

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیل کے انتہا پسند وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر نے لبنان میں صہیونی بستیوں کی تعمیر کے اسرائیلی منصوبوں کا انکشاف کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مقبوضہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارہ سے فلسطینیوں کی جبری ہجرت کی حوصلہ افزائی کی کوششوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔

ایتمار بن گویر کے یہ بیانات جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب عبرانی تقویم کے مطابق القدس پر قبضے کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران سامنے آئے۔ انتہا پسند دائیں بازو کے وزیر نے کہا کہ لبنان میں آبادکاری کے باقاعدہ منصوبے موجود ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل غزہ اور مغربی کنارہ سے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت کی ترغیب دینے پر بھی کام کر رہا ہے۔

دوسری جانب قابض اسرائیل کے وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے کہا کہ ان کی حکومت اپنی مدتِ اقتدار کے آغاز سے ہی مقبوضہ مغربی کنارہ میں "آبادکاری کے انقلاب” کی قیادت کر رہی ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ مغربی کنارہ (جسے وہ یہودا اور سامریہ کا نام دیتے ہیں) میں 100 سے زائد نئی بستیوں اور 60 ہزار رہائشی یونٹس کی منظوری دی جا چکی ہے۔

بزلئیل سموٹریچ نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل گذشتہ ڈھائی سال سے ایک طویل اور مہنگی جنگ لڑ رہا ہے، تاہم اس دوران اس نے مختلف محاذوں پر بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کے بقول قابض اسرائیل آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور اس کے دشمن پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکے ہیں۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جمعرات کے روز مقبوضہ القدس میں شدید کشیدگی دیکھی گئی، جہاں سالانہ "پرچم مارچ” کے آغاز سے قبل پرانے شہر میں قابض آبادکاروں نے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے کیے۔ اس مارچ میں دسیوں ہزار آبادکاروں نے شرکت کی، جن میں سے متعدد نے فلسطینیوں اور ان کی املاک پر حملے کیے، دکانوں کے اندر سامان کی توڑ پھوڑ کی، دروازے توڑ دیے اور "عربوں کے لیے موت” اور "تمہارا گاؤں جل جائے” جیسے نسل پرستانہ نعرے لگائے۔

اسی تناظر میں سینکڑوں قابض آبادکاروں نے قابض اسرائیلی افواج کی فول پروف سکیورٹی میں مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا بولا، جبکہ اس دوران فلسطینیوں کے مسجد اور پرانے شہر میں داخلے پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

انتہا پسند ایتمار بن گویر خود بھی مسجدِ اقصیٰ کے صحنوں میں داخل ہوا اور قابض اسرائیل کا جھنڈا لہرا کر کیمروں کے سامنے رقص کرتا رہا۔ اس موقع پر اس نے مسجدِ اقصیٰ کے لیے اسرائیلی نام استعمال کرتے ہوئے جبل ہیکل پر اسرائیلی خود مختاری کی بحالی کا اعلان کیا۔

متعلقہ تناظر میں بدھ کے روز تقریباً 5 ہزار آبادکاروں نے قابض فوج کی بھاری نفری کی حفاظت میں مغربی کنارہ کے شمال میں واقع شہر نابلس کے مشرق میں قبرِ یوسف پر دھاوا بولا، جن کی قیادت بزلئیل سموٹریچ کر رہا تھا، جس نے اس مقام پر مستقل یہودی موجودگی قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ قابض حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو نے بزلئیل سموٹریچ اور ایتمار بن گویر کے ہمراہ پیر کے روز یورپی یونین پر اپنے حملوں میں تیزی لائی تھی، یہ ردعمل یورپی یونین کی جانب سے مغربی کنارہ میں فلسطینیوں پر حملوں میں ملوث آبادکاروں اور آبادکار تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔