مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیل کی نام نہاد سپریم کورٹ نے غاصب حکام کو مجبور کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے کے جنوبی علاقے مسافر یطا میں واقع دو دیہات السمری اور الرکیز الفوقا سے جبری طور پر ہجرت کرائے گئے فلسطینی باشندوں کو ان کے گھروں کو واپس لوٹنے کی اجازت دیں، جنہیں سنہ 2022 اور سنہ 2023 کے دوران مسلح صہیونی بدمعاشوں اور غاصب آباد کاروں کے وحشیانہ حملوں کے بعد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
ان مظلوم فلسطینیوں میں چھ غیور خاندان شامل تھے جن کے لگ بھگ 60 افراد سنہ 2022 کے اواخر میں خربہ السمری سے زبردستی بے دخل کیے گئے تھے، جبکہ مسلسل تضیيق، معاشی ناکہ بندی اور آباد کاروں کی ہولناک سفاکیت کے دباؤ کے تحت خربہ الرکیز الفوقا سے مزید چار فلسطینی خاندانوں کو جبری ہجرت پر مجبور کیا گیا تھا۔
مسافر یطا کی ولیج کونسل کے سربراہ نضال ابو عرام نے دلدوز تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ متسبی یائیر نامی ناجائز صہیونی بؤرے کے بدمعاش آباد کاروں نے خربہ السمری کے مقامی فلسطینی باشندوں پر اپنے وحشیانہ حملوں کو تیز کر دیا تھا، جس کے بعد 7 اکتوبر سنہ 2023 کے فوراً بعد انہوں نے فلسطینیوں کے خون پسینے کی کمائی سے بنے مکانات کو یکسر مسمار کر دیا اور ان کے ملبے پر غاصبانہ طور پر اپنا نیا یہودی بؤرہ قائم کر لیا۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ الرکیز الفوقا نامی گاؤں بھی قابضین کی شدید تضییق اور راستوں کی ناکہ بندی کا شکار رہا، جہاں غاصبوں نے اویغال نامی غیر قانونی بستی کے تحفظ کا جھوٹا بہانہ بنا کر آبادی کا گھیراؤ کیا، جس کے بعد مکانات کی مسماری اور املاک کو تہس نہس کرنے کے وحشیانہ واقعات کے بعد مقامی آبادی کو ساتھ ہی واقع خربہ الرکیز التحتا کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا۔
ابو عرام نے واضح کیا کہ اس جبری ہجرت کے ابتدائی مراحل سے ہی قانونی جنگ کا آغاز کر دیا گیا تھا اور اب جا کر عدالت نے غاصب مقتدرہ کو پابند کیا ہے کہ وہ ان بے گھر شہریوں کو واپس ان کے آشیانوں میں بسائے اور انہیں سکیورٹی فراہم کرے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جب بھی فلسطینیوں کے حقوق کا معاملہ آتا ہے تو قابض اسرائیل کی انتظامیہ عدالتی فیصلوں کے نفاذ میں ہمیشہ لیت و لعل اور ٹال مٹول سے کام لیتی ہے کیونکہ ان جرائم پیشہ آباد کاروں کو صہیونی ریاست کی مکمل پشت پناہی اور تحفظ حاصل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہماری ماہر قانونی ٹیم نے عدالت کے سامنے ایسے ٹھوس اور مستند دستاویزات پیش کیے جو ان اراضی پر فلسطینیوں کی لازوال اور تاریخی ملکیت کو ثابت کرتے ہیں، اور اس کے ساتھ ہی قابض اسرائیل کے اس جھوٹے اور مکارانہ دعوے کی دھجیاں اڑا دیں کہ یہ علاقہ نام نہاد فوجی فائرنگ زون کے اندر واقع ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دفاعی وکلاء نے صہیونی عدالت کے سامنے یہ تیکھا سوال اٹھایا کہ اگر یہ علاقہ فوجی درجہ بندی کے تحت ممنوعہ زون ہے تو پھر غاصب آباد کاروں کو ان علاقوں میں رہنے اور بستیاں بسانے کی کھلی چھوٹ کیسے دی جا سکتی ہے جہاں اصل فلسطینی مالکان کا وجود بھی ممنوع قرار دیا جا چکا ہے، انہوں نے تاکید کی کہ یہ کھلا تضاد اس پورے مقدمے کا سب سے مضبوط اور مرکزی نقطہ تھا۔
واضح رہے کہ مسافر یطا میں واقع زون 918 ان اہم ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے جسے قابض اسرائیل کی ظالم مقتدرہ فوجی مشقوں کا بہانہ بنا کر فلسطینیوں کی نسل کشی اور انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے استعمال کرتی آئی ہے، اس سے قبل مئی سنہ 2022 میں ایک صہیونی عدالت نے اسی فوجی بہانے کے تحت اس خطے سے تقریباً 1200 فلسطینیوں کو جبری ہجرت کا ہولناک حکم سنایا تھا۔
ابو عرام نے افسوسناک صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 7 اکتوبر سنہ 2023 کے بعد سے اب تک غاصب آباد کاروں نے مسافر یطا کے گردونواح میں کثیر تعداد میں مویشی پالنے کے بہانے نو نئے ناجائز بؤرے قائم کر لیے ہیں، جبکہ کرمئیل، معون، بیت یاتیر اور اویغال نامی بڑی مستوطنات کے اطراف میں چار بؤرے پہلے سے ہی قائم تھے۔
مسافر یطا کی پاک دھرتی پر اس وقت تقریباً 2800 غیور فلسطینی آباد ہیں اور وسیع رقبے کو ممنوعہ فوجی زون قرار دیے جانے کی وجہ سے یہ پورا علاقہ اس وقت مغربی کنارے میں غاصب صہیونی دشمن ریاست کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی اور بڑے پیمانے پر جبری ہجرت کے شدید ترین خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔


