صہیونی دشمن پر آفت بن کر ٹوٹنے والے بہادر فلسطینی کمانڈر عزالدین الحداد اپنے اندان سمیت وطن پر نثار

0
7

مرکزاطلاعات فلسطین

مادرِ وطن فلسطین کی مٹی نے جن سرفروشوں کو جنم دیا، ان میں اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے مایہ ناز سالار عز الدین الحداد (ابو صہیب) ایک ایسا درخشندہ اور سحر انگیز ستارہ تھے جو بیک وقت بے پناہ پراسراریت کا ہالہ بھی تھے اور ہر اول دستے کا متحرک مجاہد بھی۔ وہ ایک طویل عمر تک حماس کے عسکری اور سکیورٹی معرکوں کے پسِ پردہ فیصلوں کی جان بنے رہے، مگر نام و نمود کی نمائش، تصویروں کی چک وچوند اور میڈیا کی چمک دھمک سے ہمیشہ دور بھاگتے رہے۔ یہی وجہ تھی کہ خونخوار صیہونی حلقوں میں ان کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ انہیں القسام کا بھوت یعنی ایک ایسا خوفناک ہیولا قرار دیا گیا جس کی دستک تو سنائی دیتی تھی مگر عکس دکھائی نہیں دیتا تھا۔

گذشتہ جمعہ کو ارضِ غزہ کے افق پر جب غاصب اسرائیلی دشمن کی بزدلانہ اور سفاکانہ فضائی بمباری نے ان کا تعاقب کیا، تو ان کی شہادت کے پروقار اعلان کے ساتھ ہی فلسطینی عز و وقار کی داستان کا ایک سنہرا باب مکمل ہو گیا۔ وہ ایک ایسے جری سپہ سالار تھے جن کا نام ستم رسیدہ غزہ کی تاریخ کے تاریک ترین اور معاندانہ ترین ادوار میں القسام کی عسکری طاقت کو فولاد میں ڈھالنے اور قابض دشمن کی نسل کشی کے خلاف سینہ سپر ہونے کے جذبوں سے عبارت تھا۔

غزہ کے دل سے حریت کی قیادت تک

سنہ 1970ء میں غزہ کی غیور اور تپتی مٹی میں جنم لینے والے شہید عز الدین الحداد نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ وطن کی آزادی کے نام کیا۔ وہ ان سرفروش عسکری رہنماؤں میں اول صف پر فائز تھے جنہوں نے برسوں کی خاموش، خفیہ، اور جان لیوا تنظیمی و عسکری جدوجہد کے ذریعے القسام بریگیڈز کی رگوں میں نیا خون دوڑایا۔

ان کا نام تاریخ کے اوراق پر اس وقت مزید چمک اٹھا جب انہوں نے القسام بریگیڈز کی سب سے حساس اور کلیدی "غزہ بریگیڈ” کی کمان سنبھالی۔ یہ وہ مورچہ ہے جو غزہ شہر کے عین قلب میں واقع ہونے کے باعث سیاسی، عسکری اور سکیورٹی کے اعتبار سے مزاحمت کا سب سے بڑا مرکز اور صیہونی دشمن کے سینے میں پیوست خنجر مانا جاتا ہے۔

اپنی طویل اور بے داغ عسکری خدمات کے دوران، شہید الحداد کی فکر کا ہر زاویہ القسام کی جنگی صلاحیتوں کو ازسرنو بیدار کرنے اور میدانِ کارزار میں دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کے لیے نت نئے طریقے وضع کرنے میں مصروف رہا۔ بالخصوص گوریلا جنگ، سرنگوں کے جادوئی جال اور انتہائی پیچیدہ سکیورٹی آپریشنز میں ان کی ذہانت کا کوئی ثانی نہ تھا۔

وہ القسام کا ہیولا کیوں کہلائے؟

شہید عز الدین الحداد ان رہنماؤں میں سے ہرگز نہ تھے جو منصب کے متلاشی ہوں یا میڈیا کے کیمروں کے سامنے نمودار ہو کر داد سمیٹیں۔ وہ تو سکیورٹی اور رازداری کے اس سخت حصار میں جیتے تھے جہاں دشمن کی نظریں ان کا سراغ پانے سے قاصر تھیں۔ ان کی تصاویر ناپید تھیں اور ان کا وجود صیہونیوں کے لیے ایک معمّا بن چکا تھا، جس نے انہیں القسام کی صفوں کی سب سے سحر انگیز اور پوشیدہ شخصیت بنا دیا۔

فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلنے والا غاصب اسرائیل اپنے تمام تر جدید ترین جاسوسی نظام، ڈرونز اور ہٹ لسٹ پر رکھنے کے باوجود برسوں تک ان کا بال بھی بیکا نہ کر سکا۔ صیہونی میڈیا کی معاندانہ رپورٹس بھی بارہا اس سچائی کا اعتراف کرتی رہیں کہ غزہ پر مسلط کی جانے والی پے در پے خونی جنگوں میں وہ موت کے منہ سے مسکراتے ہوئے صاف نکل گئے۔

ان کی اسی ناقابلِ تسخیر رازداری اور بے مثال عسکری رعب کی وجہ سے ہی صیہونی پروپیگنڈا مشینری نے انہیں القسام کا شبح کہنا شروع کیا، کیونکہ وہ دشمن کے رڈاروں کو چکما دے کر سائے کی طرح حرکت کرتے اور حماس کے عسکری ونگ کے نازک ترین اور تزویراتی امور کی باگ ڈور سنبھالتے تھے۔

طوفان الاقصی کی رات کا وہ درخشاں سورج

سات اکتوبر سنہ 2023ء کو جب تاریخ ساز معرکہ "طوفان الاقصی” بپا ہوا، تو قابض اسرائیل کے ایوانوں میں الحداد کا نام ایک بھیانک ڈراؤنے خواب کی طرح گونجا۔ دشمن نے تسلیم کیا کہ غزہ شہر اور شمالی غزہ کے محاذوں پر صیہونیوں کی سفاکیت کے پرخچے اڑانے اور مزاحمت کی شمع کو روشن رکھنے والا سب سے بڑا معمار یہی شخص ہے۔

اسرائیلی عسکری ماہرین کے اعتراف کے مطابق جب دشمن نے وحشیانہ بمباری کر کے القسام کے کئی جلیل القدر رہنماؤں کو شہید کر دیا، تو اس قیامت خیز گھڑی میں الحداد نے عسکری آپریشنز کو بکھرنے نہ دیا اور فیلڈ یونٹس کے مابین رابطوں کا ایسا فولادی تانا بانا بنا کہ صیہونی فوج دنگ رہ گئی۔

قابض صیہونی ریاست کی انٹیلی جنس نے ان کی طویل جنگی مہارت، سکیورٹی کی گہری فہم اور دشمن کی مسلسل نسل کشی کی مہم کے باوجود کمانڈ اینڈ کنٹرول کا ڈھانچہ برقرار رکھنے کے معجزے کو دیکھتے ہوئے انہیں القسام کا سب سے مضبوط اور ناقابلِ شکست عسکری دماغ قرار دیا تھا۔

قربانی کی لازوال داستان

اس عظیم اور سرفروش کمانڈر عز الدین الحداد نے حبِ وطن اور عشقِ الٰہی کا حق یوں ادا کیا کہ معرکہ طوفان الاقصی کی راہ میں پہلے اپنے دو نوجوان بیٹوں، صہیب اور مومن کی قربانی پیش کر کے ان کے جنازوں کو کاندھا دیا، اور پھر گذشتہ جمعہ 15 مئی کی شام غاصب صیہونی دشمن کے ایک بزدلانہ حملے میں اسی مقدس تڑپ کے ساتھ اپنی شریکِ حیات اور معصوم بیٹی کے ہمراہ خود بھی جامِ شہادت نوش کر کے ابدی سرخروئی حاصل کر لی۔ پورا خاندان ہی وطن کی حرمت پر نثار ہو گیا۔

طویل تعاقب کا سفر شہادت کی لافانی منزل پر تمام

برسوں تک عز الدین الحداد قابض صیہونی سکیورٹی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کا سب سے بڑا ہدف رہے، جنہیں مٹانے کے لیے دشمن تلملا رہا تھا، بالخصوص غزہ کی پٹی پر مسلط حالیہ بدترین نسل کشی کی جنگ کے دوران صیہونیوں نے ان کے خون کے پیاسے ہو کر وحشت کی تمام حدیں پار کر دی تھیں۔

ان کی شہادت نے جہاں القسام کی بزمِ وفا میں ایک اور جری رہنما کا اضافہ کیا، وہیں غاصب اسرائیل اپنی جھوٹی تسلی کے لیے یہ سمجھ رہا ہے کہ اس نے غزہ میں میدانی کمان کے ایک مضبوط ستون کو گرا دیا ہے۔

مگر تاریخ گواہ ہے کہ میڈیا کے پردوں سے دور رہنے والے عز الدین الحداد کا نام قابض اسرائیل کے سکیورٹی اور فوجی ایوانوں میں ہمیشہ خوف، عبرت اور شکست کی علامت بن کر گونجتا رہے گا، کیونکہ وہ ان غازیوں میں سے تھے جنہوں نے سائے کی طرح پسِ پردہ رہ کر آخری سانس تک فلسطینی کاز، مظلوموں کی داد رسی اور آزادیِ قدس کے معرکے کی قیادت اپنے خون سے کی۔