القسام بریگیڈز کے کمانڈر اوربطل عظیم عز الدین الحداد کی بزدلانہ صہیونی دہشت گردانہ حملے میں شہادت

0
6

مرکزاطلاعات فلسطین

فلسطینیوں کے مقدس نصب العین اور مادرِ وطن کی آزادی کے لیے برسرِ پیکار اسلامی تحریکِ مزاحمت ’حماس‘ نے القسام بریگیڈز کے کمانڈر عز الدین الحداد کی شہادت پر گہرے رنج و غم اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ قابض اسرائیل کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں اور غاصب دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کرنے میں گزارا۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کمانڈر عز الدین الحداد آج فلسطینی انقلاب کے ان عظیم قائدین کے کارواں میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے غیور فلسطینی عوام، اسیروں اور مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کی خاطر جامِ شہادت نوش کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمانڈر الحداد کی جدائی بلاشبہ ایک بہت بڑا اور عظیم نقصان ہے، تاہم غاصب صہیونی دشمن ریاست کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی کے باوجود ہماری حق و انصاف پر مبنی مزاحمتی تحریک اپنے مقدس اہداف کے حصول تک اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہے گی۔

دوسری جانب ہفتے کے روز ہزاروں سوگوار شہریوں نے نم آنکھوں کے ساتھ مجاہدِ اسلام کمانڈر الحداد کا جسدِ خاکی سپردِ خاک کیا، جو گذشتہ روز قابض اسرائیل کی ایک بزدلانہ ٹارگٹ کلنگ اور سنگدلانہ سفاکیت کے نتیجے میں اپنی شریکِ حیات اور معصوم بیٹی سمیت شہید ہو گئے تھے۔

شہید کا جنازہ وسطی غزہ شہر میں واقع شہداء الاقصیٰ مسجد سے اٹھایا گیا، جس میں عوامی غیظ و غضب عروج پر تھا اور فضاء قابض اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے، غاصب دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بننے اور شہداء کے پاکیزہ خون اور ان کے خانوادوں سے وفاداری نبھانے کے پرجوش نعروں سے گونجتی رہی۔

کمانڈر عز الدین الحداد کو قابض اسرائیل کی جانب سے براہِ راست فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ اپنی وفادار بیوی اور لختِ جگر بیٹی سمیت موقع پر ہی شہید ہو گئے، یوں یہ پورا خوش نصیب خاندان اپنے ان دو بیٹوں سے جا ملا جو غزہ کی پٹی پر مسلط اس لامتناہی اور وحشیانہ جنگ کے دوران پہلے ہی جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔