وول سٹریٹ جرنل: قابض اسرائیل نے ہزاروں فلسطینیوں کی لسٹیں تیار کر لیں

0
5

مرکز اطلاعات فلسطین

امریکی اخبار وول سٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ غاصب قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں ہزاروں ایسے فلسطینیوں کی فہرستیں تیار کی ہیں جنہیں قتل یا گرفتار کیا جانا ہے، ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے سات اکتوبر سنہ 2023ء کو ہونے والے معرکہ طوفان الاقصیٰ میں حصہ لیا تھا، یہ اقدام اس وسیع سکیورٹی مہم کا حصہ ہے جو غزہ کی پٹی پر جاری مجرمانہ اسرائیلی جنگ کے ساتھ ساتھ چلائی جا رہی ہے۔

اخبار کے مطابق قابض دشمن کے حکام نے مطلوبہ افراد کا سراغ لگانے اور ان میں سے سینکڑوں کو شہید یا گرفتار کرنے کے لیے انتہائی جدید ترین نگرانی کے نظام اور چہروں کی شناخت کرنے والے سوفٹ ویئرز کا استعمال کیا ہے، اس بھیانک پالیسی کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ دیگر فلسطینیوں کو مزاحمت اور مسلح جدوجہد میں شامل ہونے سے روکنے اور خوف پھیلانے کے لیے بنائی گئی ہے۔

یہ حقائق غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ وحشیانہ جنگ کے آغاز سے اب تک قابض فوج کی جانب سے چلائی جانے والی اندھا دھند گرفتاریوں کی اس وسیع مہم کے تسلسل میں سامنے آئے ہیں جس کے تحت ہزاروں نہتے فلسطینیوں کو اغوا کیا جا چکا ہے، اغوا ہونے والوں میں معصوم ڈاکٹرز، طبی عملے کے ارکان، نامہ نگار، خواتین اور کمسن بچے شامل ہیں، جبکہ حراستی مراکز اور خوفناک اسرائیلی جیلوں کے اندر ان مظلوم قیدیوں پر ڈھائے جانے والے ہولناک تشدد اور انسانیت سوز مظالم کی گواہیاں بھی مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔

مختلف رپورٹوں اور چشم دید گواہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی سے رہا ہونے والے ہزاروں فلسطینی اسیران کو ان کی حراست کے دوران شدید تشدد، تذلیل، بھوک اور دانستہ طبی غفلت کا نشانہ بنایا گیا، بالخصوص ان لوگوں کو جن کے نام تبادلے کے معاہدوں کے تحت رہائی کی فہرستوں میں شامل تھے، رہا ہونے والے کچلے ہوئے اسیران نے بتایا کہ ان کی رہائی سے ٹھیک چند روز قبل قابض جلادوں کی جانب سے تشدد کی کارروائیوں میں غیر معمولی شدت آ گئی تھی جس میں انہیں علاج اور خوراک سے یکسر محروم کر دیا گیا اور ان پر مسلسل جسمانی و ذہنی اذیتوں کے پہاڑ توڑے گئے۔

اسی طرح انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں اور رہا ہونے والے قیدیوں کے بیانات سے یہ ہولناک انکشافات بھی سامنے آئے ہیں کہ غاصب قابض اسرائیل کی افواج نے غزہ کے اسیران کے خلاف سفاکیت اور تشدد کے متعدد وحشیانہ طریقے اپنائے ہیں، ان مظالم میں قیدیوں کو شدید ترین مار پیٹ کا نشانہ بنانا، کپڑے اتار کر ننگا کرنا، کئی کئی گھنٹوں تک لوہے کی زنجیروں میں جکڑے رکھنا، فاقوں پر مجبور کرنا، قیدیوں پر خونخوار کتے چھوڑنا اور خفیہ حراستی مراکز کے اندر انسانیت سوز تحقیقات اور سنگین دھمکیاں دینا شامل ہیں۔