ملادی نوف حقائق کو مسخ کر رہے ، قابض دشمن سے طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد کروانا ضروری :باسم نعیم

0
4

مرکز اطلاعات فلسطین

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے سیاسی بیورو کے رکن ڈاکٹر باسم نعیم نے امن کونسل کے نمائندے نکولے ملادی نوف کی جانب سے غزہ کی پٹی پر سیز فائر کے لیے ٹرمپ پلان کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کا روڈ میپ شائع کرنے کی شدید مذمت کی ہے، جسے فلسطینی دھڑوں کے حوالے کیا گیا تھا تاکہ مذاکراتی وفد پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

ہفتے کے روز اپنے اخباری بیانات میں باسم نعیم نے کہا کہ سنجیدہ مذاکرات میڈیا کے ذریعے نہیں چلائے جاتے، الا یہ کہ نکولے ملادی نوف کا یہ خیال ہو کہ اس دستاویز کی اشاعت سے وہ نقشے کی حقیقت کو مسخ کر کے، اصل منصوبے سے اس کے انحراف اور اس کے خطرناک نتائج کو چھپا کر عمل درآمد کے لیے ایک عوامی دباؤ کا محاذ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

انہوں نے مذاکرات پر قائم رہنے اور دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، لیکن یہ عمل درآمد من مانے طریقے سے یا بنجمن نیتن یاھو کی معاہدے کی من پسند تشریح کے مطابق نہیں ہونا چاہیے، انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ معاہدے میں ایک پہلا انسانی ہمدردی کا مرحلہ شامل ہے، جس میں مزاحمت نے اپنی طرف سے مطلوبہ تمام شرائط کی مکمل پابندی کی ہے، جبکہ صباؤنی دشمن روزانہ کی بنیاد پر اپنے جارحانہ مظالم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور روزانہ کی بنیاد پر 13 سے زائد مرتبہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

مسلسل خلاف ورزیاں

انہوں نے واضح کیا کہ قتل و غارت گری کے سنگین جرائم اب بھی جاری ہیں، جہاں گذشتہ 9 اکتوبر سنہ 2023ء کو معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے اب تک تقریباً 900 شہری شہید ہو چکے ہیں اور 2600 زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ میں سیمنٹ کی ایک بوری، لکڑی کا ایک ٹکڑا یا شیشے کا ایک فریم تک داخل نہیں ہونے دیا گیا، حالانکہ معاہدے میں صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کی جزوی تعمیرِ نو کی واضح شق موجود ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ رفح کراسنگ سے متعلق سنہ 2005ء کے معاہدے کے مطابق، زندہ اسیران کی حوالگی کے 3 دن بعد اس راہداری کو کھول دیا جانا تھا، لیکن "یلو لائن” کے ظالمانہ معاہدے کے باوجود قابض دشمن قتل و غارت گری اور تباہی کی آڑ میں روزانہ اس لائن کو آگے سرکاتا رہا، جس کے نتیجے میں اس کے براہ راست کنٹرول کا رقبہ 53 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے اس امر کی طرف متوجہ کیا کہ نکولے ملادی نوف کو اس پورے معاملے میں صرف ہتھیاروں کی فائل ہی دکھائی دیتی ہے، اور وہ سلامتی کونسل کی قرارداد اور ٹرمپ پلان کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے دوسرے تمام اقدامات کو اس کے ساتھ جوڑ رہے ہیں، حالانکہ مذکورہ پلان میں دیگر نکات بھی شامل ہیں جن میں انتظامی کمیٹی اور بین الاقوامی افواج کا داخلہ اور ہتھیاروں کی بات کرنے سے پہلے قابض صیہونی افواج کا پیچھے ہٹنا شامل ہے۔

ہتھیاروں کا معاملہ قابض دشمن کی موجودگی سے جڑا ہے

انہوں نے کہا کہ تحریک حماس اور دیگر فلسطینی دھڑے، اور ان کے پیچھے ہماری قوم کی تمام زندہ قوتیں، ایک سیاسی عقیدے کے طور پر یہ پختہ ایمان رکھتی ہیں کہ ہتھیاروں کی فائل کا تعلق قابض دشمن کی موجودگی سے ہے، اور ہماری قوم کا ہر طرح کی مزاحمت کا حق ایک اصیل حق ہے جو دنیا کی ان تمام اقوام کو حاصل ہے جو کسی بھی قبضے کے تحت زندگی گزار رہی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مزاحمت اور اس کے دھڑوں نے ہماری فلسطینی قوم کے اعلیٰ ترین مفادات کے لیے انتہائی لچک کا مظاہرہ کیا ہے، جس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ دوبارہ جنگ اور نسل کشی کی طرف نہ لوٹنے کے لیے تمام تر کوششیں کی جائیں، انہوں نے اشارہ کیا کہ مزاحمت نے ایک سیاسی افق کے دائرے میں فلسطینی، عرب اور بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ طویل مدتی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے، بشرطیکہ ہتھیاروں کو اکٹھا کر کے صرف ایک آزاد، مکمل خودمختار فلسطینی ریاست کے حوالے کیا جائے۔

انہوں نے اصول کے طور پر اس مقولے سے اتفاق کا اظہار کیا کہ "ایک ہی اتھارٹی، ایک ہی قانون اور ایک ہی ہتھیار ہو”، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ یہ اتھارٹی آئینی اور منتخب ہو، اور یہ واحد ہتھیار ایک مکمل خودمختار آزاد فلسطینی ریاست کے سائے تلے ہو۔

انہوں نے بتایا کہ تحریک حماس نے جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کے انتظام و انصرام کے حوالے سے مصری ثالث کی شراکت داری کے ساتھ اتھارٹی (فلسطینی انتظامیہ) کے ساتھ بات چیت کے لیے ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے کوششیں کیں، اور بدقسمتی سے ہم ایک قومی یکجہتی حکومت یا ٹیکنو کریٹ حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے، بلکہ تحریک نے اس انتظامی کمیٹی کو بھی قبول کر لیا جس کا سربراہ رام اللہ کا کوئی وزیر ہو۔

انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ایک قومی انتظامی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق ہو گیا تھا، اور انہوں نے کہا کہ ہم نے جنگ کے دوران بھی اس کمیٹی کے داخلے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن قابض اسرائیل کے ویٹو کی وجہ سے اس میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، اور اس کی تشکیل اور اس کے ارکان کے ناموں کے اعلان کے بعد بھی، قابض اسرائیل کے ویٹو کی وجہ سے اب تک اسے داخلے سے روکا جا رہا ہے۔

انہوں نے اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ مزاحمتی قوتوں نے فلسطینیوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیے بغیر، فریقین کو الگ کرنے کے لیے بین الاقوامی افواج کے داخلے کا خیرمقدم کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ نکولے ملادی نوف اچھی طرح جانتے ہیں کہ قابض اسرائیل ایک غاصب قوت کے طور پر آبادی کی زندگی کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور آبادی کی انسانی ضروریات، بشمول نقل و حرکت کی آزادی، قابض دشمن کی ذمہ داری ہے نہ کہ یہ کوئی مذاکرات کا موضوع ہے۔

آبادی کی ضروریات کو مذاکرات سے جوڑنا بلیک میلنگ ہے

انہوں نے اس بات پر سخت زور دیا کہ آبادی کی بنیادی انسانی ضروریات کو مذاکرات کے ساتھ مشروط کرنا شہریوں کو بلیک میل کرنے اور ان کی انسانی ضروریات کو قابض دشمن کے سیاسی اور سکیورٹی ایجنڈے کے حق میں یرغمال بنانے کے مترادف ہے، انہوں نے اسے اپنی سرزمین پر ثابت قدمی اور صمود کے حامل ہمارے لوگوں کے ارادے کو توڑنے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا، تاکہ بنجمن نیتن یاھو کے اس ایجنڈے کو پورا کیا جا سکے جسے وہ دو سال کی جنگ اور نسل کشی کے دوران حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ چاہے وہ پہلے مرحلے کے فیصلوں کی غاصب دشمن کی طرف سے کھلی خلاف ورزی ہو یا نکولے ملادی نوف کے بار بار آنے والے بیانات ہوں، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اس دشمن کو مستقبل میں طے پانے والے کسی بھی معاہدے کا پابند بنانے کے لیے کوئی ضمانتیں موجود نہیں ہیں، خواہ دوسرے مرحلے کی شقوں پر مکمل اتفاقِ رائے ہی کیوں نہ بن جائے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ، اس کے مستقبل اور وہاں زندگی کی بحالی کی جھوٹی فکر کا ڈرامہ رچا کر ہماری قوم کے بیٹوں کو ان کی اپنی ہی مزاحمت کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتی، اور بڑوں سے پہلے بچے بھی آپ کا یہ بیانیہ کبھی نہیں خریدیں گے، اگر آپ مذاکراتی عمل کے اہداف کو حاصل کرنے میں واقعی سنجیدہ ہیں اور ہم بھی اس میں آپ کے ساتھ ہیں، تو آپ کو قابض دشمن کو گذشتہ معاہدے کی تمام تر ذمہ داریوں کا پابند بنانا ہوگا۔

انہوں نے آخر میں اس بات کا اعادہ کیا کہ حماس مذاکراتی عمل اور تمام مراحل کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن ثالثوں سے، جن کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے، اور ضامن امریکہ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دوسرے فریق کو معاہدے کی تمام ذمہ داریوں کا پابند بنائیں تاکہ طویل مدتی سکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔