قابض اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ بمباری، متعدد شہری زخمی، رہائشی مکانات اور پناہ گزینوں کے خیمے تباہ

0
0

مرکز اطلاعات فلسطین

عید الاضحی کے دوسرے روز غاصبانہ جارحیت میں انتہائی خطرناک تیزی کے درمیان غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کے فضائی حملوں کے سلسلے میں متعدد شہری زخمی ہو گئے اور شہریوں کے کئی مکانات اور پناہ گزینوں کے خیمے تباہ ہو گئے۔

ہمارے نامہ نگار نے رپورٹ کیا ہے کہ قابض دشمن کے طیاروں نے آج رات خان یونس میں واقع حمد کے علاقے میں پناہ گزینوں کے "نماء کیمپ” پر بمباری کی جس کے نتیجے میں پناہ گزینوں کے متعدد خیموں سمیت پورے علاقے میں شدید تباہی مچی اور کئی شہری زخمی ہو گئے۔

اس سے قبل جمعرات کی شام قابض دشمن کے طیاروں نے غزہ کے شمال مغرب میں واقع شاطی کیمپ میں ایک مکان پر بمباری کی، یہ بمباری شہریوں کو فون کر کے اس علاقے کو خالی کرنے کا حکم دینے کے کچھ ہی دیر بعد کی گئی جس کی وجہ سے جبری ہجرت اور نقل مکانی کی ایک نئی لہر پیدا ہو گئی۔

ایک اور جارحیت میں غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع شہر دير البلح کے شمال میں شہداء الاقصیٰ ہسپتال کے جنوب میں واقع حارہ ابو منسی میں قابض دشمن کے طیاروں کے ایک شدید فضائی حملے کے بعد شہری طلال ابو منسی کی زمین اور مکان کو شدید نقصان پہنچا اور اسے مکمل طور پر مٹی کا ڈھیر بنا کر زمین بوس کر دیا گیا۔

قبل ازیں دو شہری جامِ شہادت نوش کر گئے جن میں سے ایک ہانی الکرد ہیں جو گذشتہ منگل کو وسطی پٹی کے قصبے زاویدہ پر قابض دشمن کے طیاروں کے حملے میں لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے اور دوسرے عبداللہ عبدالوھاب ہیں جو جنوبی غزہ کے الزیتون میں قابض دشمن کی فائرنگ سے شہید ہوئے، جبکہ گذشتہ رات غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کی نئی لہر میں 10 شہری شہید ہو گئے تھے۔

قابض اسرائیلی افواج پناہ گزینوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور توپ خانے کی بمباری کے ذریعے غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ نام نہاد یلو لائن کے اندر اور باہر دھماکوں اور مکانات کو مسمار کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے، جبکہ سامانِ تجارت، امداد کی ترسیل اور سفر کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ 10 اکتوبر کو سیز فائر کے آغاز سے لے کر اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 924 ہو گئی ہے، اس کے علاوہ 2786 افراد زخمی ہوئے جبکہ ملبے تلے سے لاشیں نکالنے کے 781 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

اسی طرح سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی غاصبانہ جارحیت کے مجموعی نقصانات کی تعداد تقریباً 72,821 شہداء اور 172,894 زخمیوں تک پہنچ چکی ہے، جو غزہ کی پٹی پر مسلسل جاری قابض دشمن کی سفاکیت کے نتیجے میں ہونے والے بھاری انسانی نقصان کی واضح عکاسی کرتی ہے۔