قابض فوج نے لبنان میں اپنی زمینی کارروائیوں کو وسعت دے دی: دریائے لیطانی کے شمال میں جھڑپیں اور تصادم

0
0

محمود مجادلہ: اسرائیل نے منگل کے روز جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیوں کا دائرہ کار دریائے لیطانی کے شمال میں واقع اس علاقے تک بڑھا دیا ہے جسے وہ "پیلی لکیر” (Yellow Line) کا نام دیتا ہے۔ یہ پیش رفت فضائی حملوں اور انخلاء کے انتباہات میں اضافے کے ساتھ ہوئی ہے، جبکہ جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود حزب اللہ کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، آنے والے دنوں میں اسرائیلی زمینی اور فضائی حملوں میں مزید وسعت کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔

اسرائیلی پبلک براڈکاسٹنگ کارپوریشن (کان 11) نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز دریائے لیطانی کے شمال میں یحمر الشقیف کے علاقے، اور دریائے لیطانی، مرجعیون کے میدان اور نبطیہ کے علاقے پر نظر رکھنے والی پہاڑیوں میں زمینی پیش قدمی کر رہی ہیں۔ مزید کہا گیا کہ فوج نے جنگ بندی کے علاقے سے باہر فوجی کارروائیوں کو مضبوط بنانے کے لیے ریزرو فورسز کو طلب کر لیا ہے۔ اخبار "ہارٹز” کے مطابق، اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں "پیلی لکیر” سے آگے زمینی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جو کہ اس علاقے کی شمالی حد ہے جسے اسرائیل "سکیورٹی بیلٹ” قرار دیتا ہے۔ یہ اقدام حزب اللہ کے خودکش ڈرون حملوں کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔ اخبار نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں لبنان میں تقریباً 150 اہداف پر حملہ کیا ہے، جن میں سے 90 سے زائد کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے اسلحہ خانے تھے۔ ان حملوں کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ یہ حزب اللہ کی جانب سے جنوبی لبنان میں قابض فورسز کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کا جواب ہیں۔

دوسری جانب، اسرائیلی چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فورسز نے "پیلی لکیر کے پار” واقع علاقوں میں زمینی کارروائی شروع کر دی ہے۔ چینل نے اشارہ کیا کہ لبنانی رپورٹس میں قابض فوج کی تعیناتی کے دائرہ کار سے باہر کے علاقوں میں اسرائیلی فورسز کو دیکھے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں، حزب اللہ نے دوپہر تک یکے بعد دیگرے سات فوجی بیانات جاری کیے جن میں دریائے لیطانی کے شمال میں واقع اور نبطیہ شہر پر نظر رکھنے والے قصبے "زوطر الشرقیہ” کی طرف پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی افواج کا مقابلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ پارٹی (حزب اللہ) نے کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے صبح سویرے سے ایک "مخلوط اسرائیلی فورس” کا مقابلہ کیا جو قصبے کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ یہ پیش قدمی "جنگی طیاروں کے حملوں اور شدید توپ خانے کی گولہ باری” کے بعد کی گئی۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ان جھڑپوں میں "براہ راست فائرنگ کے تبادلے” کے ساتھ ساتھ میزائل، توپ خانے کے گولے اور خودکش ڈرونز استعمال کیے گئے۔

اسی تناظر میں، ایک اسرائیلی فضائی حملے نے مغربی بقاع میں قرعون ڈیم سے ملحقہ ایک سڑک کو نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے جھیل کے اندر چٹانیں اڑ کر گریں۔ یہ بات دریائے لیطانی کی قومی اتھارٹی نے بتائی، جس کا کہنا تھا کہ متعلقہ ٹیمیں ڈیم اور اس کے آس پاس کی تنصیبات کی حفاظت کا جائزہ لیں گی۔ (عرب 48، 26 مئی 2026)

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں