رام اللہ: اسرائیل نے بدھ کے روز مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں ایک الیکٹرانک "لینڈ رجسٹری اور حقوق کے بندوبست” کا نظام شروع کیا، جو ایک ایسا ڈرامائی قدم ہے جو مغربی کنارے کو ضم کر کے اور اسے ایک آباد کار (یہودیوں کی) ریاست میں تبدیل کر کے اس پر اپنا کنٹرول مضبوط کر دے گا۔ اس سے فلسطینی اتھارٹی کی خود مختاری اور افادیت ختم ہو جائے گی اور فلسطینیوں کو کسی قانونی تحفظ کے بغیر چھوڑ دیا جائے گا۔ القدس گورنریٹ نے کہا کہ یہ عمل جو "ڈیجیٹل لینڈ رجسٹری کو اپ ڈیٹ کرنے” کے نعرے کے تحت شروع کیا گیا ہے، محض زمین کے اندراج کے نظام کی ازسرنو تشکیل کے ذریعے استعماری منصوبوں کے حق میں فلسطینی اراضی پر غیر قانونی قبضے کو مستحکم کرنے کا ایک آلہ ہے۔ یہ نیا اقدام فلسطینی اتھارٹی اور مغربی کنارے کے مستقبل کے حوالے سے اسرائیلی پالیسی میں ایک خطرناک تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس قانون سے پہلے مغربی کنارے میں زمین کا ریکارڈ خفیہ رکھا جاتا تھا۔ اس قانون نے نگرانی اور نفاذ کے دائرہ کار کو وسعت دے دی ہے جس میں اب زون (الف – A) اور (ب – B) میں پانی کی خلاف ورزیوں، آثار قدیمہ کو نقصان پہنچانے، اور ماحولیاتی خطرات جو پوری زمین کو آلودہ کرتے ہیں، پر مسماری کا اختیار بھی شامل ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے مئی 2025 میں مغربی کنارے کے مختلف حصوں میں زمین کی ملکیت کے جامع بندوبست کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی کے مطابق، اس کا مقصد اراضی کے اندراج کے عمل کو مکمل طور پر اسرائیلی اتھارٹی کے ماتحت کر کے مقبوضہ علاقوں کے قانونی اور انتظامی الحاق کو مکمل کرنا تھا۔ گزشتہ فروری کے وسط میں، اسرائیلی حکومت نے 1967 کے بعد پہلی بار مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن کے عمل کو کھولنے کی منظوری دی۔
مغربی کنارے میں لینڈ رجسٹری (الطابو) کو کھولنے سے تمام یہودیوں کو فلسطینی مالکان کے ناموں کا پتہ چل جائے گا اور وہ ان سے براہ راست رابطہ کرنے یا ان پر زمین خریدنے کے لیے مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالنے کے قابل ہو جائیں گے، جس سے زمین اور جائیدادوں کے حصول کا عمل آسان ہو جائے گا۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ پہلی بار زون "الف” (A) کو شامل کرے گا، وہ علاقے جو فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول میں ہیں، اور جہاں اسرائیلیوں کے لیے پابندی تھی۔
"ممنوعہ علاقوں” میں دراندازی: علاقہ (الف – A) اور اسی طرح (ب – B) کے "ممنوعہ علاقوں” میں دراندازی اس معاملے میں سب سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ عملی طور پر ان علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی کے کردار کو ختم کر دیتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی اب زمینوں اور جائیدادوں کی ملکیت، اور ان کی خرید و فروخت کو منظم کرنے کی مجاز نہیں رہے گی۔ اس کے علاوہ، یہ اسرائیلی حکام کو ان دو علاقوں میں نگرانی اور مسماری کا اختیار دیتا ہے جو (اوسلو معاہدے کے تحت) انتظامی طور پر فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت ہیں۔
بیرزیت یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف لاء نے ایک مقالہ جاری کیا تھا جس میں اسرائیلی فیصلوں کے عمومی فریم ورک اور ان کے سیاسی و قانونی اثرات کی وضاحت کی گئی تھی۔ انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ اسرائیل عملی طور پر مغربی کنارے پر اپنے کنٹرول کو دوبارہ ترتیب دے کر اسے ہڑپ کر رہا ہے، جو مقبوضہ علاقوں کا ایک حقیقی الحاق ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے اسرائیلی فیصلوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مغربی کنارے پر مکمل اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط کرتے ہیں، اور فلسطینی اتھارٹی کے کردار کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ زمینی طاقت کے توازن میں ایک ٹھوس تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مغربی کنارے میں زمین کی ملکیت کے قانونی ڈھانچے کو براہ راست متاثر کرتا ہے، آبادیاتی تقسیم اور زمین پر وجود کے حقائق کو تبدیل کرتا ہے، بستیوں کی توسیع کو "قانونی حیثیت” بخشتا ہے، بستیوں کی تعمیر کے لیے ایک قانونی سہولت بناتا ہے، اور زمینی حقائق کو اس طرح بدل دیتا ہے جسے بعد میں واپس لانا مشکل ہو جائے گا۔
موجودہ فیصلے کے تحت، اسرائیلی فوج کی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر سے 2030 کے اختتام تک مغربی کنارے کی 15 فیصد اراضی کے بندوبست کو مکمل کرنے کے لیے کہا جائے گا۔ اس مرحلے پر، فیصلے کا اطلاق صرف ایریا (ج – C) تک محدود رہے گا۔ (الشرق الاوسط، لندن، 27 مئی 2026


