تحریکِ حماس نے اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں کی جانب سے تصدیق شدہ دستاویزی شواہد اور گواہیوں کی بنیاد پر، صیہونی قابض ریاست کو تنازعات والے علاقوں میں جنسی تشدد کے مرتکب افراد کی اقوامِ متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔
حماس نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں اس اقدام کو قابض فوج کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف کیے گئے منظم اور ہولناک جرائم کا ایک نیا دستاویزی ثبوت، اور جنگی جرائم کے مرتکب قابض رہنماؤں کے طویل عرصے سے منتظر احتساب کی راہ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔
حماس نے زور دیا کہ بلیک لسٹ میں یہ شمولیت محض اقوامِ متحدہ کا ایک اندراج یا بیان بن کر نہیں رہ جانی چاہیے، بلکہ اس کے بعد ایسے ٹھوس اور موثر عملی اقدامات کیے جانے چاہییں جو جنگی مجرم نیتن یاہو کی حکومت کو بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے تمام بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزیوں سے روک سکیں۔ یہ عمل صرف مذمت تک محدود نہ رہے بلکہ فوری طور پر احتساب کی طرف بڑھے، فلسطینی عوام کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کیا جائے، اور ان جرائم کے ذمہ داروں کے خلاف مجاز بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں۔
(فلسطین انفارمیشن سینٹر، 1 جون 2026)


