غاصب صہیونی دشمن کی معاشی دہشت گردی کے باعث ادویات ختم، ہزاروں مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

0
5

مرکز اطلاعات فلسطین

فلسطینی وزارت صحت نے ادویات اور طبی سامان کے بحران میں غیر مسبوق اور ہولناک حد تک اضافے کی سنگین ترین وارننگ جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ بنیادی ادویات کی فہرست میں شامل ایک تہائی سے زائد اقسام مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں جبکہ سیکڑوں دیگر ادویات کا اسٹاک ہنگامی ضرورت کی کم ترین سطح سے بھی نیچے گر چکا ہے۔

وزارت صحت نے ایک پریس ریلیز میں دلدوز انکشاف کیا ہے کہ بنیادی ادویات اور ضروری علاج کی شدید ترین قلت کے نتیجے میں کینسر کے 4 ہزار سے زائد مریضوں اور گردوں کے عارضے میں مبتلا ہزاروں مریضوں کی معصوم زندگیاں غاصب صہیونی دشمن کی سفاکیت کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہیں۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ شدید ترین اور دم گھونٹ دینے والے مالیاتی بحران کے باوجود فلسطینی حکومت دستیاب وسائل کو انتہائی مہارت کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے اور انہیں فوری ترین طبی ضروریات کی طرف موڑ کر صحت کی خدمات کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے چوبیس گھنٹے کوشاں ہے۔

وزارت صحت نے عالمی برادری، اقوام متحدہ کے اداروں اور امداد دینے والے ممالک سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کریں اور قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ

فلسطین کے روکے گئے ٹیکسوں کے فنڈز کو فوری طور پر رہا کرے اور صحت کے شعبے کو منہدم ہونے سے بچانے کے لیے فوری مدد فراہم کرے۔

وزارت نے تاکید کی ہے کہ موجودہ بحران انتہائی بھیانک انسانی المیے کو جنم دے رہا ہے جو ہزاروں مریضوں، بالخصوص دائمی امراض، کینسر، گردوں کے فیل ہونے اور تشویشناک حالت میں مبتلا معصوم فلسطینیوں کی زندگیوں کو نگل رہا ہے۔

فلسطینی وزارت نے مطالبہ کیا کہ قابض اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین اور ایک غاصب قوت پر عائد ہونے والی تمام تر ذمہ داریوں کے تحت مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے ماتحت پسنے والی مظلوم آبادی کے حوالے سے تمام فرائض پورے کرے۔

کینسر اور دائمی امراض کی دسیوں اقسام کی ادویات غائب

وزارت صحت نے اس بدترین بحران کی سب سے بڑی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے گذشتہ 15 ماہ سے فلسطینی ٹیکسوں کی آمدنی کو مسلسل ہڑپ کیا جا رہا ہے جو کہ وزارت مالیات کی کل آمدنی کا تقریباً 68 فیصد بنتی ہے۔ اس وحشیانہ معاشی ناکہ بندی کے باعث حکومت ادویات بنانے والی کمپنیوں کے واجبات ادا کرنے سے قاصر ہو چکی ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس بھیانک صورتحال کی وجہ سے ادویات کی سپلائی انتہائی سست یا بالکل ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے، جس نے دائمی امراض، کینسر اور آئی سی یو میں استعمال ہونے والی ادویات کی شدید ترین قلت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ادویات کے اسٹریٹجک اسٹاک کو بھی تباہ کر دیا ہے۔

وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، وزارت کی طرف سے فراہم کی جانے والی 520 بنیادی ادویات میں سے تقریباً 180 اقسام کا اسٹاک بالکل صفر ہو چکا ہے، جبکہ کینسر اور رسولیوں کے علاج کے لیے مخصوص 97 اقسام میں سے 50 اقسام کی ادویات اب ہسپتالوں میں نام کو بھی دستیاب نہیں ہیں۔

گردوں کے ڈائلیسس اور سرجری کے سامان کی ہولناک قلت

وزارت صحت نے ہسپتالوں کے اندر انتہائی نازک اور جان بچانے والے مخصوص طبی سامان کے ذخیرے میں خطرناک حد تک کمی کا پردہ چاک کیا ہے، جن میں سب سے نمایاں گردوں کی صفائی کے فلٹرز ہیں جو ڈائلیسس کے سیشنز کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے بغیر مریض کا بچنا ناممکن ہے۔

اسی طرح ہسپتالوں کے گوداموں میں زخموں کو ٹانکے لگانے والے دھاگوں بالخصوص دل کی جراحی اور دیگر پیچیدہ آپریشنز میں استعمال ہونے والے باریک دھاگوں کی شدید قلت ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے آپریشن تھیٹرز کی تیاری کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

وزارت نے مزید بتایا کہ دل کے آپریشن اور انجیو پلاسٹی میں استعمال ہونے والا سامان بشمول کیتھیٹرز اور اسٹینٹس (چھلے) بھی ختم ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے مریضوں کے دل کے آپریشنز کو ملتوی کرنا پڑا ہے۔

لیبارٹری کے سامان کا اسٹاک بھی صفر ہو گیا

طبی گوداموں کے ڈیٹا سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سامان کی فراہمی اور اس کے استعمال کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کے باعث تشویشناک حالت تک پہنچنے والے اور صفر کی سطح پر آنے والے لیبارٹری کے سامان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

وزارت کے مطابق، لیبارٹری کا وہ سامان جو وزارت صحت فراہم کرتی تھی، اس میں سے 79 اقسام کی اشیاء اب بازار اور ہسپتالوں سے مکمل طور پر غائب ہو چکی ہیں۔

مزید 265 مخصوص طبی اشیاء سروس سے باہر

اسی ہولناک تناظر میں وزارت نے رپورٹ دی ہے کہ مزید 265 اقسام کا مخصوص طبی سامان بالکل ختم ہو کر صفر کی سطح پر آ چکا ہے، جس نے طبی اداروں پر دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے اور ہسپتالوں کی کام کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیا ہے۔

11 ہزار سے زائد آپریشنز ملتوی

وزارت صحت نے اشارہ کیا کہ سرکاری ہسپتالوں نے سنہ 2025ء کے دوران تقریباً 65 ہزار چھوٹے بڑے آپریشنز کیے تھے، جبکہ سنہ 2026ء کے آغاز سے لے کر یکم جون تک تقریباً 19.5 ہزار آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔

اس کے برعکس، آپریشنز کے لیے درکار بنیادی طبی سامان، دھاگوں اور دیگر ضروری اشیاء کی عدم دستیابی، مالیاتی بحران، ہڑتالوں اور کام کے اوقات کار میں کمی کے باعث ملتوی کیے جانے والے شیڈولڈ آپریشنز کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

وزارت نے زور دے کر کہا کہ ان سنگین حالات نے ہسپتالوں کی آپریشنل صلاحیت اور مریضوں کو بروقت سرجری کی خدمات کی فراہمی کو براہِ راست متاثر کیا ہے، اور ساتھ ہی دسیوں ہزار مریضوں کو پرائمری ہیلتھ کیئر اور سپیشلسٹ کلینکس کی بنیادی خدمات سے بھی محروم کر دیا ہے۔

غزہ کی پٹی کی جاری انسانی تباہی اور معاشی بحران کا ملاپ

وزارت صحت نے دنیا کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ یہ بدترین بحران ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ کی پٹی میں غاصب صہیونی دشمن کی طرف سے مسلسل طبی اور انسانی تباہی مسلط ہے، جہاں کے تمام طبی مراکز ادویات، ایندھن اور جان بچانے والے سامان کی آخری حد تک قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

غزہ کی پٹی کا پورا ہیلتھ سسٹم ہسپتالوں اور ہیلتھ سینٹرز کی وسیع پیمانے پر تباہی اور طبی عملے کی مسلسل شہادتوں اور گرفتاریوں کی وجہ سے شدید زخمی حالت میں ہے، جبکہ وہاں طبی ضروریات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اس لرزہ خیز حقیقت کا تقاضا ہے کہ ادویات اور انسانی ہمدردی کی امداد کی بلاتعطل اور پائیدار فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری عالمی برادری متحرک ہو۔

وزارت صحت پر 3.8 ارب شیکل کا بڑا قرضہ

وزارت نے وضاحت کی کہ شدید مالیاتی بحران اور واجب الادا قرضوں کے پہاڑ نے ادویات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور طبی خدمات کے اداروں کو شدید مالی دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے، جس کا براہِ راست منفی اثر ادویات کی سپلائی پر پڑا ہے۔

وزارت صحت کا کل قرضہ 3.8 ارب شیکل تک جا پہنچا ہے، جس میں سے 1.3 ارب شیکل صرف ادویات اور طبی سامان فراہم کرنے والی کمپنیوں کا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ادویات فراہم کرنے والی کمپنیاں فلسطینی ہیلتھ سسٹم کا بنیادی ستون ہیں، لیکن طویل مالیاتی بحران نے سپلائی چین کو کمزور کر کے ادویات کے اسٹریٹجک اسٹاک کو ختم کر دیا ہے۔ وزارت صحت نے اپنی وارننگ دہرائی کہ ٹیکسوں کی رقم پر قابض اسرائیل کا یہ قبضہ نہ صرف حکومت کو مفلوج کر رہا ہے بلکہ پورے فلسطینی ہیلتھ سسٹم کے وجود کو مٹانے کے مترادف ہے۔

طبی شعبے کو بچانے کے لیے امداد دہندگان سے ہنگامی اپیل

فلسطینی وزارت صحت نے اپنے بیان کے آخر میں دنیا بھر کے امداد دہندگان سے ہنگامی اپیل کی ہے کہ وہ ایک سال کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے فوری طور پر 50 ملین ڈالر مالیت کی جان بچانے والی ادویات اور اتنی ہی مالیت کی دیگر انتہائی اہم ادویات اور طبی سامان فراہم کریں۔

اس کے ساتھ ہی وزارت نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے، جو ماہانہ تقریباً 60 ملین شیکل بنتی ہیں، فوری مالی مدد کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ادویات ساز کمپنیوں اور نجی و سرکاری طبی اداروں کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جا سکے اور مظلوم فلسطینی شہریوں کو صحت کی بنیادی خدمات کی فراہمی جاری رکھی جا سکے۔