عوفر جیل میں فلسطینی اسیران کے خلاف نئی صیہونی جارحیت

0
4

مرکز اطلاعات فلسطین

اسیران کے میڈیا دفتر نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی عوفر جیل کی انتظامیہ نے مظلوم فلسطینی اسیران کے خلاف نئی عقوبتی سزائیں نافذ کر دی ہیں جو ایک منظم جارحیت کا حصہ ہے اور تمام بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

میڈیا دفتر نے پریس بیان میں وضاحت کی کہ فلسطینی اسیران کو اب جیل کے مختلف حصوں میں منتقل کرتے وقت ان کے ہاتھ پیچھے کی طرف ہتھکڑیوں سے باندھ دیے جاتے ہیں اور یہ تذلیل آمیز عمل نقاب پوش جلادوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی نگرانی میں انجام دیا جاتا ہے۔ بیان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد اسیران کی تذلیل کرنا اور قید خانے کے اندر ان کی نقل و حرکت پر غیر معمولی پابندیاں عائد کر کے ان کے حوصلوں کو توڑنا ہے۔

بیان میں اشارہ کیا گیا کہ ان نئے جابرانہ ہتھکنڈوں کے تحت اسیران کی وکلاء کے ساتھ قانونی ملاقاتوں کے کمروں کے اندر بھی خفیہ نگرانی کے کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان قانونی ملاقاتوں کا وقت بھی کم کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے مظلوم اسیران کا بیرونی دنیا سے رابطہ کرنا اور قید خانے کے اندر اپنے اوپر ہونے والے مظالم اور ہولناک حالات سے آگاہ کرنا شدید محدود ہو گیا ہے۔

اسیران کے میڈیا دفتر نے جیل کے اندر صحت کی صورتحال کی سنگین ترین ابتری اور غاصب صیہونیوں کے مظالم کے بارے میں سخت انتباہ جاری کیا اور بتایا کہ بدترین طبی غفلت اور بنیادی صفائی ستثرائی کے مکمل فقدان کے نتیجے میں جیل کے مختلف حصوں میں خارش کی موذی وباء دوبارہ پھوٹ پڑی ہے جس کے ساتھ ہی متعدد اسیران کے اجسام پر شدید کمزوری اور لاغری کے واضح آثار نمودار ہو چکے ہیں جو ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کی سنگین عکاسی کرتے ہیں۔

میڈیا دفتر نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل کی اس سفاکیت کو رکوانے کے لیے فوری مداخلت کریں اور فلسطینی اسیران کی حالت زار پر سنجیدہ نگرانی نافذ کر کے قابض اسرائیل کے قید خانوں کے اندر جاری تذلیل اور جاسوسی کے اس ہولناک نظام کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کریں۔

یہ سنگین انتباہات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب قابض صہیونی عقوبت خانوں میں فلسطینی اسیران کی حالت زار بگڑنے کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس مسلسل موصول ہو رہی ہیں جہاں غاصب دشمن کی طرف سے انتظامی پابندیوں میں اضافہ اور طبی نگہداشت اور غذا کی شدید قلت دیکھی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی اسیران کی تعداد میں بھی بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے جن میں ہزاروں انتظامی اسیران اور نام نہاد غیر قانونی جنگجوؤں کے زمرے میں رکھے گئے مظلوم فلسطینی شامل ہیں جن کی وہاں نسل کشی کی جا رہی ہے۔