عوفر جیل میں صیہونی ہتھکنڈوں پر حماس کا عالمی برادری سے ہنگامی مداخلت کا مطالبہ

0
3

مرکز اطلاعات فلسطین

اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے قابض اسرائیل کی عوفر جیل انتظامیہ کی جانب سے فلسطینی اسیران کے خلاف نافذ کیے گئے نئے ظالمانہ اقدامات کی سنگینی پر شدید خبردار کیا ہے اور اسے قابض حکومت کی طرف سے اسیران اور اسیرات کے خلاف اپنائی جانے والی جبر و تشدد کی پالیسی میں ایک نیا اور خطرناک ترین جارحیت قرار دیا ہے۔

جماعت نے اپنے پریس بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ نئی عقوبتی سزائیں غاصب صیہونی دشمن کی ان دہشت گردانہ پالیسیوں کا تسلسل ہیں جو تمام بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ فاشسٹ ممارسات اسیران کے عزم اور ان کی ثابت قدمی کو ہرگز متزلزل نہیں کر سکتیں۔

حماس نے واضح کیا کہ قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر جاری یہ مسلسل جارحیت اسیران کے عزمِ صمیم اور آزادی کے یقین کو کبھی کمزور نہیں کر پائے گی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسیران کی آزادی کا معاملہ فلسطینی عوام اور ان کی مزاحمت کی اولین قومی ترجیح رہے گا جب تک کہ وہ قابض دشمن کے چنگل سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو جاتے۔

تحریک نے ان پے در پے مظالم اور مسلسل خلاف ورزیوں کی اصل وجہ قابض دشمن کے جرائم پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کو قرار دیا ہے جس کی وجہ سے غاصب صیہونی رہنماؤں کو فلسطینیوں کے خلاف ڈھائے جانے والے ہولناک مظالم پر کسی بازپرس کا سامنا نہیں کرنا پڑتا چاہے وہ قید خانوں کے اندر ہوں یا باہر۔

حماس نے دنیا بھر کے ممالک اور اقوام متحدہ کے اداروں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ قابض اسرائیل کے مکمل بائیکاٹ اور اسے تنہا کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں اور اس پر دباؤ ڈالیں تاکہ اسیران کے خلاف جاری فاشسٹ ہتھکنڈوں کو روکا جا سکے اور بین الاقوامی قوانین اور انسانی منشور کے مطابق ان مظلوموں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس کے ساتھ ہی حماس نے غیور فلسطینی عوام، عرب اور اسلامی امہ سمیت دنیا بھر کے انصاف پسندوں اور آزاد منش لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ مظلوم اسیران کی حمایت میں اپنی کوششوں کو تیز کریں اور مختلف عالمی فورمز پر ان کے پاکیزہ نصب العین کو زندہ رکھیں تاکہ غاصب دشمن کو ان اسیران کو تنہا کرنے اور قید خانوں کے اندر ان پر ڈھائے جانے والے دردناک مظالم پر پردہ ڈالنے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔

تحریک نے انسانی حقوق، بین الاقوامی اور امدادی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں اور قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اسیران کو نشانہ بنانے والی اس بڑھتی ہوئی وحشیانہ جارحیت کو فوری طور پر روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر متحرک ہوں۔