مرکز اطلاعات فلسطین
فلسطینی وزارت صحت نے غزہ کی پٹی سے باہر علاج کے لیے جانے والے مریضوں کے سفر پر عائد مسلسل پابندیوں اور مشکلات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ میڈیکل ریفرلز (طبی حوالہ جات) کے فائل پر کام معطل کرنے جیسے سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو سکتی ہے۔
وزارت نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ یہ ممکنہ قدم اس وقت تک زیر غور رہے گا جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے۔ ان مطالبات میں علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت کے حامل مریضوں کی تعداد میں اضافہ اور سفر کے لیے ضروری منظوری کے حصول سے متعلق طریقہ کار کو آسان بنانا شامل ہے۔
وزارت نے اعلان کیا کہ وہ ان مریضوں کی فہرستوں کے نمبر اور تاریخیں شائع کرنا شروع کرے گی جن کی فائلیں منظوری اور سکیورٹی کلیئرنس کے حصول کے لیے عالمی ادارہ صحت کو بھیجی گئی تھیں، لیکن ابھی تک ان کے بارے میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
وزارت نے وضاحت کی کہ فروری سنہ 2026ء سے اب تک بھیجی گئی کل فہرستوں کی تعداد 36 ہے، جن میں تقریباً تین ہزار مریض شامل ہیں، جو ابھی تک غزہ کی پٹی سے نکلنے اور علاج کروانے کے لیے درکار منظوریوں کے منتظر ہیں۔
وزارت نے نشاندہی کی کہ منظوری کا اجرا فہرستیں بھیجنے کی ترتیب کے مطابق نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے انتظار کا دورانیہ طویل ہو جاتا ہے اور ان مریضوں کی تکالیف میں مزید اضافہ ہوتا ہے جن کی حالت فوری طبی مداخلت کی متقاضی ہے۔
وزارت نے شفافیت کے اصول کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرکاری، انسانی حقوق، نگرانی کرنے والے اداروں اور میڈیا کو میڈیکل ریفرل کمیٹی کے کام کرنے کے طریقہ کار اور اس فائل میں اپنائے گئے اقدامات سے متعلق تمام معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اصولی طور پر ان مریضوں کے نام شائع کرنے پر کوئی اعتراض نہیں رکھتی جو ابھی تک منظوری اور سکیورٹی کلیئرنس کے منتظر ہیں، تاہم وہ ان کی رازداری برقرار رکھنے اور ان کے ذاتی حقوق کے تحفظ کی خاطر ایسا کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
یہ انتباہات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس اور فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 18,500 سے زائد مریض اور زخمی فوری طبی انخلا کے محتاج ہیں، جبکہ غزہ کے بیشتر ہسپتالوں کے ناکارہ ہونے کے بعد علاج کی خدمات میں شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
ان رپورٹس کے مطابق، قابض اسرائیل کی جانب سے مریضوں کی فہرستوں پر عائد ’سکیورٹی جانچ‘ کے اقدامات طبی انخلا کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ منظوری کے حصول میں طویل وقت لگنے کے باعث اکثر مریضوں کی صحت مزید بگڑ جاتی ہے یا علاج کے لیے سفر کرنے سے قبل ہی ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔


