آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی بھیڑ بکریاں، گائے اور دیگر املاک چوری کرنا اب محض انفرادی یا غیر معمولی واقعات نہیں رہے، بلکہ یہ ایک عام، منظم اور اسرائیلی فوج کے زیرِ سایہ ہونے والا مظہر بن چکا ہے۔ ان واقعات کی تفصیلات تمام علاقوں میں ایک جیسی ہیں، جن کی تصدیق شہریوں اور غیر ملکی کارکنوں کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس سے ہوتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ‘البیدر’ سے ‘الجزیرہ نیٹ’ کو حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، آباد کاروں نے سال 2025 سے اب تک 12 ہزار سے زائد مویشی چوری کیے ہیں، جبکہ 2026 کے آغاز سے اب تک تقریباً 1500 مویشی چوری کیے جا چکے ہیں۔

