اردوان: ترکیہ کی سلامتی دمشق اور بیروت سے شروع ہوتی ہے اور ہم ‘ارضِ موعود’ کے خوابوں کو ہرگز پورا نہیں ہونے دیں گے

0
1

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی سلامتی ہطائے صوبے سے نہیں بلکہ حلب، دمشق اور بیروت سے شروع ہوتی ہے، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ ‘ارضِ موعود’ (گریٹر اسرائیل) کے وہم کو کبھی پورا نہیں ہونے دے گا ۔ بدھ کے روز جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے پارلیمانی بلاک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اردوان نے کہا: "ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ارضِ موعود کے ان خوابوں کا حتمی ہدف کیا ہے، اور ان شاء اللہ، ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے” ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ کی سلامتی جنوبی صوبے ہطائے سے نہیں بلکہ حلب، دمشق اور بیروت سے شروع ہوتی ہے، مزید کہا: "ہم اپنے برادر ممالک میں کسی بھی زبردستی کے فیصلے کو مسلط نہیں ہونے دیں گے، اور ہم ان پر ہونے والے کسی بھی حملے کو نظر انداز نہیں کریں گے” ۔

انہوں نے مزید کہا: "اگر اسرائیل کی غنڈہ گردی کو نہ روکا گیا تو اس کی قیمت صرف یہ خطہ نہیں بلکہ پوری انسانیت چکائے گی” ۔ ان کا ماننا تھا کہ "اسرائیل کو روکنا ایک مشترکہ انسانی ذمہ داری ہے، اور تاریخ کے المناک سانحات کو دہرانے سے روکنا سب کا فرض ہے” ۔ اردوان نے کہا کہ اسرائیل، جو انسانی تاریخ کی سب سے خونریز نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے، نے اسی وقت ایران پر بھی حملہ کیا ہے، اور وہ صرف اسی پر اکتفا نہیں کر رہا، بلکہ اس نے بیک وقت لبنان پر بھی قبضہ کرنا شروع کر دیا ہے ۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ سمیت خطے کے ممالک کے شدید ردعمل کے باوجود, اسرائیل لبنان سے انخلاء سے انکاری ہے اور وہاں اپنی خونی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ انہوں نے ذکر کیا کہ اسرائیل صرف اسی پر نہیں رکا، بلکہ وہ افریقی ممالک اور بحیرہ روم کے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی ایک مذموم کوشش میں بھی ملوث ہو گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صیہونی انتظامیہ ہر لحاظ سے ایک "فتنہ ساز فیکٹری” ہے، جو ایک وسیع جغرافیائی خطے میں مسلسل بدامنی پھیلا رہی ہے ۔ ترک صدر کا خیال ہے کہ شام اور لبنان پر نیتن یاہو اور اس کے مجرم ٹولے کے حملے اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ اب وہ صرف ان دو برادر ممالک کو نہیں بلکہ ترکیہ کو بھی خطرہ لاحق کر رہے ہیں ۔

بحیرہ روم میں فتنہ

اردوان نے خبردار کیا کہ "بحیرہ روم، خاص طور پر جزیرہ قبرص میں فتنے کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی جا رہی ہے”، اور زور دیا کہ ان کا ملک اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ "کچھ ایسی چھوٹی اور غیر اہم ہستیاں ہیں جن کے عزائم ان کے قد سے کہیں بڑے ہیں، وہ اسرائیل کے فتنے کی کشتی میں سوار ہو گئی ہیں اور صیہونیت کا ٹھیکیدار بننا قبول کر لیا ہے، اور مشرقی بحیرہ روم میں خام خیالی کے پیچھے بھاگ پڑی ہیں” ۔ انہوں نے مزید کہا: "یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے کہ اگر مشرقی بحیرہ روم میں ترکیہ اور ترک قبرصیوں کے حقوق کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی تو ہمارا جواب انتہائی دو ٹوک اور سخت ہو گا” ۔

(اناطولیہ نیوز ایجنسی، 10/6/2026)

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں