مقبوضہ بیت المقدس (القدس): اسرائیلی آرمی چیف ایال ضمیر نے منگل کے روز سابق ملٹری پراسیکیوٹر ‘یفعات تومر-یروشلمی’ کو فوج سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں یہ سزا دو سال قبل ایک ویڈیو نشر کرنے کی اجازت دینے پر دی گئی ہے جس میں فوجیوں کو ایک فلسطینی قیدی پر جنسی تشدد کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ آرمی چیف نے سابق ملٹری پراسیکیوٹر یفعات تومر-یروشلمی کو فوج سے نکال دیا ہے۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ 2024 میں "سدے تیمان” (Sde Teiman) نامی فوجی جیل کے واقعے سے متعلق شکوک و شبہات سامنے آتے ہی انہیں فوراً کام سے روک دیا (معطل کر دیا) گیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ برطرفی کا یہ فیصلہ "ان افعال اور شکوک کی سنگینی، اور مجرمانہ کارروائیوں کے طویل ہونے کی وجہ سے کیا گیا ہے”، اور یہ بھی واضح کیا گیا کہ انہیں "سروس مکمل کرنے کا کوئی انعام (ریٹائرمنٹ فنڈز یا مراعات) نہیں ملے گا”۔
بیان میں بتایا گیا کہ آرمی چیف تحقیقات اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان کے عہدے (رینک) میں تنزلی پر غور کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ مزید یہ کہ وزیرِ دفاع کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ "ویڈیو لیک ہونے سے کمانڈروں اور فوجیوں کے ان پر اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچی ہے”۔ کاٹز نے مزید کہا: "سدے تیمان کے حوالے سے ویڈیو لیک ہونے کا معاملہ سامنے آتے ہی، میں نے ان کی سنگین حرکات کے پیشِ نظر انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے فوری کارروائی کی تھی”۔ (القدس العربی، لندن، 26 مئی 2026


