
مرکزاطلاعات فلسطین
فلسطینی خاتون وکیل میعاد ابو الرب نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی مغربی کنارے میں سماجی کارکنوں پر ہونے والے حملے کے دوران لی گئی ان کی ایک تصویر کی اشاعت کے بعد انہیں قابض صہیونی آباد کاروں کی جانب سے شدید اشتعال انگیزی اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ یہ تصویر اطالوی جریدے لیسپریسو (L’Espresso) کے سرورق کی زینت بنی تھی، جس کے بارے میں میعاد ابو الرب کا کہنا ہے کہ یہ فلسطینیوں کے روزمرہ دکھوں اور مصائب کی تصویر کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔
صحافتی گفتگو کے دوران ابو الرب نے واضح کیا کہ یہ تصویر سنہ 2025ء کے اواخر میں الخلیل کے مغرب میں واقع قصبے اذنا میں اس وقت کھینچی گئی جب وہ زیتون کی کٹائی کے سیزن میں کسانوں کی مدد کے لیے ایک مہم میں شریک تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران قابض اسرائیل کی فوج کی سرپرستی میں وحشی آباد کاروں نے وہاں موجود سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے رضاکاروں پر دھاوا بول دیا تھا۔
تصویر میں ایک مسلح صہیونی فوجی کو میعاد ابو الرب کی طرف اپنا فون تانے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، یہ منظر اطالوی جریدے کے سرورق پر شائع ہونے کے بعد عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا۔ اس جریدے نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور قابض اسرائیل کی پالیسیوں پر ایک تفصیلی فائل شائع کی تھی۔
اس سرورق نے قابض اسرائیل کے سرکاری حلقوں میں کھلبلی مچا دی، جہاں روم میں متعین اسرائیلی سفیر نے جریدے پر حقیقت کو مسخ کرنے کا الزام لگایا۔ دوسری جانب جریدے نے اپنی کوریج کا دفاع کرتے ہوئے اسے متوازن صحافت قرار دیا اور بعد ازاں وہ ویڈیو بھی جاری کی جس میں تصویر کھینچے جانے کے لمحات کو دستاویزی شکل میں محفوظ کیا گیا تھا۔
حقیقت تصویر سے کہیں زیادہ ہولناک ہے
ابو الرب کہتی ہیں کہ جس دن یہ تصویر لی گئی وہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ صہیونی مظالم کے اس تسلسل کا حصہ ہے جس کا فلسطینیوں کو روز سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سرگرمی میں شریک افراد کو زمین چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے دھمکیوں کے ساتھ ساتھ زہریلی گیس کے گولوں اور براہ راست گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ تصویر اس روزانہ کی تکلیف کا ایک محدود پہلو پیش کرتی ہے جو فلسطینی جھیل رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان حملوں میں چرواہوں کا تعاقب، املاک کو نذر آتش کرنا اور زمینوں تک رسائی روکنا شامل ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کر کے وہاں غیر قانونی بستیوں کی توسیع کرنا ہے۔
تصویر کے وائرل ہونے کے بعد کے اثرات پر بات کرتے ہوئے ابو الرب نے بتایا کہ صہیونی آباد کاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی گئی، جس سے انہیں اپنے خاندان اور خصوصاً چار بچوں کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہوگئے۔
انہوں نے ایک گذشتہ واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں موجود تھیں تو آباد کاروں نے ان پر حملہ کیا جس سے بچے شدید خوفزدہ ہوگئے اور اس واقعے کے نفسیاتی اثرات آج بھی باقی ہیں۔ اسی طرح ایک اور میدانی سرگرمی کے دوران جب وہ حاملہ تھیں، ان پر حملہ کیا گیا جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا تھا۔
سفاکیت کے باوجود زمین سے وابستگی برقرار
ابو الرب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قابض دشمن کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور مظالم کے باوجود فلسطینی اپنی زمین سے جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ زمین کے ساتھ ان کا رشتہ محض معاشی نہیں بلکہ یہ ان کی شناخت اور بقا کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آباد کاروں کو مسلح کرنے کے بعد ان کے حملوں کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ سفاکانہ ہتھکنڈے فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور نہیں کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ مغربی کنارے میں اس وقت 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد صہیونی آباد کار سینکڑوں غیر قانونی بستیوں میں مقیم ہیں، جن میں سے تقریباً ڈھائی لاکھ مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی حصے میں موجود ہیں اور یہ مسلسل فلسطینیوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔
کمیشن برائے مزاحمت دیوار و آباد کاری کے مطابق گذشتہ مارچ کے دوران آباد کاروں نے 497 حملے کیے جن کے نتیجے میں 9 فلسطینی شہید ہوئے۔
سنہ 2023ء کے ماہ اکتوبر سے مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کی فوج اور آباد کاروں کی سفاکیت میں شدید اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 1148 سے زائد فلسطینی شہید، 11,750 زخمی اور تقریباً 22 ہزار کو اغوا کر کے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید کیا جا چکا ہے۔


