اپنے عوام کے ساتھ بھوک کاٹ کر جام شہادت نوش کرنے والے ابو عبیدہ کی یادگار تصویر منظر عام پر

0
2

مرکزاطلاعات فلسطین

القسام بریگیڈز کے سابق ترجمان شہید حذیفہ الکحلوت جو "ابو عبیدہ” کے نام سے معروف تھےکی ایک نئی یادگار تصویر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک وسیع لہر پیدا کر دی ہے۔ اس تصویر میں ان کے چہرے اور جسم پر نقاہت کے واضح آثار دیکھے جا سکتے ہیں، جو غزہ کی پٹی میں جاری جنگ اور صہیونی دشمن کی جانب سے مسلط کردہ بدترین بھوک و افلاس کے دوران ان کے وزن میں ہونے والی نمایاں کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔

شہید کے صاحبزادے ابراہیم الکحلوت نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے ایک دلدوز پیغام تحریر کیا کہ ان کے والد کو برسوں کی تھکن نے نہیں بلکہ اس جنگ اور بھوک نے نڈھال کیا جسے انہوں نے اپنے عوام کے ساتھ مل کر جینے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد نے اپنا 30 کلو سے زائد وزن کھو دیا تھا، لیکن ان کی غیرت، وقار اور ثابت قدمی میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آئی۔

شہید کے بھائی اسید الکحلوت نے بھی اس تصویر پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے بھائی نے قحط کے ایام میں اپنا بہت زیادہ وزن کھو دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابو عبیدہ لوگوں کے دکھوں اور تکالیف کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے، جو ان کے جنگی خطابات سے بھی جھلکتا تھا جن میں وہ فلسطینیوں کے مصائب کی ترجمانی کیا کرتے تھے۔

یہ تصویر تیزی سے وائرل ہو گئی اور سوشل میڈیا صارفین نے اسے بڑے پیمانے پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ابو عبیدہ کی جسمانی حالت غزہ کی پٹی کے محصور عوام پر ٹوٹنے والے اس انسانی المیے کی عکاس ہے جو قابض اسرائیل کی سفاکیت اور سنگین معاشی حالات کی صورت میں ان پر مسلط کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کرنے والوں کا کہنا تھا کہ یہ تصویر غزہ میں برپا ہونے والے قحط کی پوری داستان بیان کر رہی ہے۔ بعض صارفین نے اشارہ کیا کہ الکحلوت کے آخری خطابات میں ان کی آواز اور لب و لہجے سے تھکن کے آثار نمایاں تھے، جس میں سیاسی پیغامات کے ساتھ ساتھ ایک طرح کا شکوہ بھی موجود تھا۔

صارفین نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ نقاہت اور تھکن کے یہ آثار ان کے نقاب اور عسکری وردی کے باوجود واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے تھے، جو اس دور کی سنگینی اور ان کٹھن حالات کی عکاسی کرتے ہیں جن میں انہوں نے زندگی بسر کی۔

اس جذباتی لہر کے دوران کارکنوں نے شہید کے سابقہ بیانات اور ویڈیوز کو بھی دوبارہ شیئر کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ابو عبیدہ کی شخصیت ان کی شہادت کے باوجود زندہ و جاوید ہے۔ ان کی آخری تصویر نے ایک بار پھر اس انسانی المیے اور جرات مندانہ تجربے کو دنیا کے سامنے اجاگر کر دیا ہے جو فلسطینی نسل کشی کے اس دور میں پیش آیا۔

دوسری جانب یونیسف کی ترجمان ٹیس انگرام نے اس سنگین صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں دس لاکھ سے زائد بچے اب بھی خوراک اور پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں بچے روزانہ بھوکے سوتے ہیں اور ایسی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جن کا علاج ممکن تھا، مگر ادویات اور ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے وہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

غزہ کی پٹی میں لاکھوں بے گھر افراد اپنے گھروں کی تباہی اور جبری بے دخلی کے بعد انتہائی اذیت ناک حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ انسانی صورتحال لمحہ بہ لمحہ ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

اکتوبر سنہ 2023ء میں قابض اسرائیل کی جانب سے امریکہ کی بھرپور حمایت کے ساتھ شروع کی گئی یہ جنگ، جو دو سال تک جاری رہی، اپنے پیچھے 72 ہزار سے زائد شہدا اور 172 ہزار سے زائد زخمی چھوڑ گئی ہے۔ اس صہیونی بربریت نے غزہ کے 90 فیصد سویلین بنیادی ڈھانچے کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے، جس کی تعمیر نو کے لیے اقوام متحدہ کے مطابق 70 ارب ڈالر کے خطیر بجٹ کی ضرورت ہوگی۔