مرکز اطلاعات فلسطین
ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ایک ماہر صہیونی محقق اور قابض اسرائیل کے ایک ریزرو جنرل کا ماننا ہے کہ ایران کے خلاف قابض اسرائیل کی تزویراتی حکمتِ عملی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس جنگ نے الٹا ایران کی طاقت میں اضافہ کر دیا ہے اور امریکی رائے عامہ کے اندر قابض اسرائیل کے لیے ایک گہرا بحران پیدا کر دیا ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کے محقق دانی سیترینوفیتس یاد دلاتے ہیں کہ قابض اسرائیل اور امریکہ نے 28 فروری کو ایرانی نظام کو گرانے کے مقصد سے ایک مہم کا آغاز کیا تھا۔ اپنی تاریخ میں پہلی بار قابض اسرائیل نے کسی غیر ملک میں ایک کمانڈر کو ہلاک کیا اور تہران میں حکومت بدلنے کے منصوبے پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ منصوبہ انتہائی "اناڑی اور غیر پیشہ ورانہ” تھا اور ایران کے بارے میں ناقص فہم کا عکاس تھا۔
اس صہیونی محقق کے مطابق جنہوں نے آغاز ہی سے اس ناکامی سے خبردار کیا تھا، یہ صرف ایرانی فضائی طاقت کا بڑھا چڑھا کر لگایا گیا تخمینہ نہیں تھا بلکہ تہران کے نظام کی مزاحمتی صلاحیت کو انتہائی کم تر سمجھنے کی فاش غلطی بھی تھی۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ اس منصوبے کی تفصیلات، جس میں محمود احمدی نژاد کو اقتدار میں لانے کے خیال سے لے کر نظام کو ہلا کر رکھ دینے کے لیے کردوں کو استعمال کرنے تک کی باتیں شامل تھیں، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اس مہم کی منصوبہ بندی کرنے والے ایران کے گہرے داخلی ڈھانچے سے بالکل ناواقف تھے۔
ان کے بقول اس مہم کے آغاز کے صرف تین دن بعد ہی یہ سوچ ملیا میٹ ہو گئی کہ یہ جنگ ایرانی نظام کو بدل دے گی، اور یہ اس وقت ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کردوں کے اقدام کو روکنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس مہم کو وہیں ختم کرنے اور حاصل شدہ نتائج پر اکتفا کرنے کے بجائے، اس جنگ کو کسی واضح ہدف کے بغیر ہی جاری رکھا گیا۔
انہوں نے مذکورہ انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں مزید لکھا: "اس جنگ کے دوران حاصل ہونے والی تمام تر تادیبی اور تزویراتی کامیابیوں کے باوجود، اس نے ایک ایسا تزویراتی منظرنامہ پیدا کر دیا ہے جو اس صورتحال سے کہیں زیادہ بدتر ہے جو اس کے آغاز میں موجود تھی”۔
دانی سیترینوفیتس اپنے اس نظریے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب ایران پر ایک ایسی نوجوان اعلیٰ قیادت کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے جو انتقام کے لیے تڑپ رہی ہے اور عملی طور پر پاسدارانِ انقلاب نے فیصلے کرنے والے تمام اہم اداروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب کوئی بھی میزائلوں کی حد مقرر کرنے یا خطے میں ایران کے حامی عسکری ونگز کی حمایت روکنے کے بارے میں بات نہیں کرتا۔
ایہی صورتحال جوہری معاملے میں بھی نظر آتی ہے، کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ معاہدے میں نگرانی اور یورینیم کی افزودگی کو منجمد کرنے کے حوالے سے انتہائی محدود وعدے شامل ہیں، اور یہ وہ اقدامات ہیں جن کے لیے ایران اس جنگ سے پہلے بھی تیار تھا۔
وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں: "عملی طور پر یہ فوجی مہم ایک ایسے وقت میں ختم ہو رہی ہے جب ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ شدہ تقریباً 440 کلوگرام یورینیم بدستور موجود ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کم تر سطح پر افزودہ شدہ سینکڑوں کلوگرام کا دوسرا ذخیرہ بھی اس کے پاس ہے۔ اگر ایران اپنے پروگرام کو منجمد کرنے یا اپنے پاس موجود مواد کو کم کرنے پر راضی ہو بھی جائے—جس کا دارومدار بنیادی طور پر کسی مؤثر امریکی دھمکی پر ہے—تو پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ کئی مہینوں کے بعد جب امریکہ کانگریس کے انتخابات کے بیچوں بیچ ہوگا، تو اس معاہدے پر عمل درآمد کروانے کی سکت کس میں ہوگی؟”
قابض اسرائیل امریکیوں کی نظر میں
اپنے شدید اور تلخ مطالعے کے ضمن میں یہ صہیونی محقق سمجھتے ہیں کہ اس مہم کی "کامیابیوں” کے بارے میں باتیں کرنا حقیقت کا مذاق اڑانے کے مترادف لگتا ہے، خصوصاً جب اس کا موازنہ جنگ کے آغاز میں کیے گئے بلند و بانگ دعووں سے کیا جائے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس جنگ نے ایران کی سرخ لکیروں کو تبدیل نہیں کیا بلکہ ان میں مزید سختی اور شدت پیدا کر دی ہے۔
وہ اپنے تجزیے کو آگے بڑھاتے ہیں "اس کے علاوہ تہران نے ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور وہ ہے آبنائے ہرمز پر اس کا مکمل کنٹرول، جس نے اس چیلنج کا کوئی مؤثر فوجی حل تلاش کیے بغیر عالمی معیشت کو شدید ترین معاشی نقصانات پہنچائے ہیں”۔
انہوں نے مزید کہاکہ "یہ تمام مسائل امریکی رائے عامہ میں قابض اسرائیل کے گرتے ہوئے مقام اور منفی اثرات کے سامنے بالکل ہیچ دکھائی دیتے ہیں۔ اب امریکہ میں قابض اسرائیل کو صرف ایک ایسے فریق کے طور پر نہیں دیکھا جاتا جس نے امریکہ کو جنگ میں دھکیلا، بلکہ اسے ایک ایسی ناکام جنگ کے شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا اور جس نے امریکی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا”۔
ان بہت سے صہیونی محققین کی طرح جو ایران کے خلاف جنگ کو بغیر کسی وژن اور منصوبہ بندی کے شروع کی گئی ایک ناکام مہم قرار دینے میں ان کے ہم خیال ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ سنگین حالات، ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی کے ایک بڑے حصے کے ساتھ پہلے سے ہی تناؤ کا شکار تعلقات کے ساتھ مل کر، اس فوجی مہم سے پیدا ہونے والے تزویراتی نقصان کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ معاہدہ ٹرمپ کے سامنے موجود دیگر بدترین اختیارات کے مقابلے میں "کم تر نقصان” کا باعث ہے، جیسے کہ بغیر کسی فائدے کے ناکہ بندی کو جاری رکھنا یا پھر ایک ایسی فوجی مہم کی طرف دوبارہ لوٹنا جو امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال دیتی اور ایرانی سوچ میں کسی حقیقی تبدیلی کی ضمانت بھی نہ دیتی۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس مہم کے آغاز میں کیے گئے دعووں اور اس معاہدے کے درمیان پایا جانے والا ایک بہت بڑا خلا جو بظاہر اسے ختم کر رہا ہے، اس کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ سب سے بڑھ کر اس جنگ نے یہ ثابت کیا ہے کہ بنجمن نیتن یاھو کی حکمتِ عملی زمین بوس ہو چکی ہے، اور اس بات میں شدید شک ہے کہ کوئی بھی امریکی صدر مستقبل میں دوبارہ اس طرح کی کسی مہم جوئی کا خطرہ مول لینے پر راضی ہوگا۔
دانی سیترینوفیتس آخر میں کہتے ہیں کہ "اگر خود ٹرمپ اس مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تیار نہیں تھے، تو یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ بعد میں کوئی اور ایسا کر پائے گا۔ امریکی حمایت کے بغیر قابض اسرائیل کے تن تنہا کارروائی کرنے کی عدم صلاحیت کے پیشِ نظر اور اس مہم کے عبرت ناک نتائج کی روشنی میں اب ایک بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ ایران کے خلاف قابض اسرائیل کی حکمتِ عملی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے”۔


