مرکز اطلاعات فلسطین
قابض دشمن کے وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے خان الاحمر کو فوری طور پر خالی کرانے اور اس کے تمام باسیوں کو زبردستی ہجرت پر مجبور کرنے کے ایک فوری حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں، یہ قدم انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کے ارادے کا بدلہ لینے کی ایک مذموم کوشش کے طور پر اٹھایا ہے۔
بزلئیل سموٹریچ نے صحافتی بیانات میں اپنے باطل دعوؤں کے مطابق کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے ہمارے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے اور میں اپنے اختیارات کے تحت جنگ کے ذریعے اس کا جواب دوں گا، انہوں نے مزید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے اختیارات کے مطابق فلسطینی مقتدرہ کے ہر اس اقتصادی یا دیگر ہدف پر حملہ کروں گا جسے نشانہ بنانے کی مجھ میں صلاحیت ہے۔
بزلئیل سموٹریچ نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک بڑا الٹ پھیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ فیصلہ انہوں نے اس اطلاع کے بعد کیا جس میں انہیں بتایا گیا کہ ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ اس پسماندہ رہائشی بستی میں لگ بھگ 200 فلسطینی خیموں اور ٹین کی چھتوں سے بنے مکانات میں مقیم ہیں، یہ مظلوم لوگ طویل سالوں سے ایک بہت بڑے استعماری منصوبے کے حق میں زبردستی نکالے جانے کی سازشوں کا سامنا کر رہے ہیں جسے قابض اسرائیل کی اصطلاح میں ای ون (E1) کا نام دیا گیا ہے۔
خان الاحمر کے چاروں اطراف یہودی بستیاں موجود ہیں اور یہ بستی ان زمینوں کے درمیان واقع ہے جنہیں تل ابیب اس توسیعی منصوبے کو نافذ کرنے کے لیے نشانہ بنا رہا ہے، اس ہولناک منصوبے میں معالیہ ادومیم نامی یہودی بستی کو مغربی القدس سے جوڑنے کے لیے 3500 سے زائد استعماری یونٹوں کی تعمیر شامل ہے تاکہ مقدسی شہر کو اس کے اطراف سے مکمل الگ تھلگ کیا جا سکے اور مقبوضہ مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔
اس نسل پرستانہ استعماری منصوبے کو دنیا بھر میں شدید مخالفت کا سامنا ہے کیونکہ اس کے نفاذ کا مطلب دو ریاستی حل کے امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے جو کہ قابض اسرائیل کے برابر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا تقاضا کرتا ہے۔


