تل ابیب میں شدید غم و غصہ.. کیا نیتن یاہو نے اسرائیل کو "امریکی طفیلیہ(Protectorate) بنا دیا ہے؟

0
12

تل ابیب میں اس وقت غصے کی لہر دوڑ رہی ہے اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر یہ الزامات شدت اختیار کر گئے ہیں کہ انہوں نے اسرائیل کے سیاسی اور عسکری فیصلوں کی آزادی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ اسرائیل اب ایک آزاد ریاست کے بجائے "امریکی طفیلیے کی طرح نظر آنے لگا ہے، کیونکہ جنگ کے تسلسل اور جنگ بندی کے تمام فیصلے اب تل ابیب کے بجائے واشنگٹن میں ہو رہے ہیں۔

یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا یکطرفہ اعلان کیا۔ اسرائیل میں اس قدم کو اس بات کی دلیل سمجھا جا رہا ہے کہ اب جنگ اور امن کا اختیار اسرائیل کے ہاتھ میں نہیں رہا بلکہ یہ مکمل طور پر امریکی انتظامیہ کے ارادوں کے تابع ہو چکا ہے۔

سیاسی اور عسکری حلقوں کے تحفظات
فلسطین میں الجزیرہ کے بیورو چیف ولید العمری کے مطابق، یہ احساس صرف اپوزیشن تک محدود نہیں ہے بلکہ حکمراں اتحاد اور خود عسکری و سیاسی حلقوں میں بھی پھیل چکا ہے۔ ان حلقوں کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ نیتن یاہو نے اپنے حالیہ بیان میں اس حقیقت اور داخلی دباؤ کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف انہوں نے لبنان کے ساتھ "تاریخی امن” کی بات کی ہے، تو دوسری طرف فوج کو اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کی آزادی دینے کا دعویٰ کیا ہے۔

ولید العمری کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کا یہ موقف وزیر دفاع یسرائیل کیٹس کے اس اعتراف سے متصادم ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل حملوں میں وسعت کے لیے "امریکی گرین سگنل” کا انتظار کر رہا ہے۔ اس سے یہ تاثر مزید پختہ ہوتا ہے کہ حتمی فیصلہ اب بھی امریکی موقف پر منحصر ہے۔

عسکری دباؤ اور نیتن یاہو کی حکمت عملی
اسرائیلی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، جو حزب اللہ کی مبینہ خلاف ورزیوں کا حوالہ دے کر لبنان میں آپریشنز کو وسعت دینے اور مزید سخت ردعمل کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں نیتن یاہو ایک "دوہری حکمت عملی” چلانے کی کوشش کر رہے ہیں:
سیاسی رستہ : لبنانی ریاست کے ساتھ مذاکرات کرنا جیسے حزب اللہ کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔
اور
عسکری رستہ: حزب اللہ کو عسکری طور پر نشانہ بنانا جیسے سیاسی مذاکرات کا کوئی عمل چل ہی نہ رہا ہو۔
اسی وجہ سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلانات کے باوجود اسرائیلی فضائی حملے اور گولہ باری کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔

داخلی غصہ اور واشنگٹن پر انحصار
اسرائیل کے اندر یہ تلخ احساس جڑ پکڑ چکا ہے کہ واشنگٹن اب فیصلے کی ڈوریں سنبھالے ہوئے ہے۔ تھنک ٹینکس، خاص طور پر "انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز” میں اس تبدیلی پر بحث ہو رہی ہے کہ امریکہ کے ساتھ اسرائیل کا رشتہ "شراکت داری” سے بدل کر "تابعداری” کی طرف جا رہا ہے۔

ولید العمری انکشاف کرتے ہیں کہ نیتن یاہو نے پہلے امریکہ پر مالی انحصار کم کرنے کی تجویز دی تھی، لیکن امریکہ نے اسے مسترد کر دیا، جس سے اسرائیل کی واشنگٹن سے الگ ہونے کی محدود صلاحیت واضح ہو گئی۔

زمینی صورتحال اور سیاسی مفادات
میدانِ جنگ میں اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے "سیکیورٹی زون” اور بعض اوقات دریائے لیطانی سے آگے بھی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بستیوں کی تباہی اور انخلاء کے انتباہات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دوسری طرف، نیتن یاہو شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کو اپنی "کامیابیوں” کا یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ انتخابات قریب ہیں اور ان پر الزامات ہیں کہ وہ اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے جنگ کو طوالت دے رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں