تنظیم ہند رجب کا امریکہ میں یہودی فوجی کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب پر قانونی تعاقب

0
2

مرکز اطلاعات فلسطین

حقوق انسانی کی تنظیم ہند رجب نے امریکہ کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ‘جیک’ نامی ایک یہودی فوجی کو گرفتار کریں جو امریکی شہریت کا بھی حامل ہے۔

تنظیم نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب مذکورہ فوجی عالمی فٹ بال کپ کی تقریبات میں شرکت کیلئے لاس اینجلس شہر میں موجود ہے۔ اس پر غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کی جنگ اور منظم انہدام کے عملیات میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات ہیں۔

تنظیم نے نشاندہی کی کہ یہ اس فوجی کے خلاف اپنی نوعیت کی پہلی قانونی کارروائی نہیں ہے بلکہ گذشتہ ماہ اس کے سری لنکا میں چھٹیاں گزارنے کے دوران بھی اس کے خلاف اسی طرح کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

یہ قانونی اقدامات قابض فوج کی صفوں میں مذکورہ فوجی کی عسکری سرگرمیوں کی درست دستاویزات پر مبنی ہیں، جو اسے مسلح تنازعات کے دوران شہریوں کے خلاف خلاف ورزیوں کو جرم قرار دینے والے قوانین کے تحت بین الاقوامی قانونی چارہ جوئی کی زد میں لاتے ہیں۔

تنظیم کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ فوجی قابض فوج کی ‘603 بریگیڈ’ میں خدمات انجام دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی عسکری یونٹ ہے جس نے سنہ 2023ء سے غزہ میں شہری انفراسٹرکچر کی تباہی میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

حقوق انسانی کی رپورٹس کے مطابق اس بریگیڈ نے تقریباً 65 ایسی انہدامی کارروائیاں کی ہیں جن میں رہائشی محلوں، مساجد اور صنعتی و زرعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ یونٹ فلسطینی شہریوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے جیسی خلاف ورزیوں میں بھی ملوث رہی ہے۔

یہ فوجی غزہ میں جاری عسکری کارروائیوں کے دوران خان یونس شہر میں ہونے والے کم از کم ایک انہدامی واقعے سے براہ راست منسلک تھا۔

میدانی تحقیقات سے تصدیق ہوئی ہے کہ ‘جیک’ نامی یہ فوجی سنہ 2025ء کے اکتوبر اور نومبر کے مہینوں کے دوران خان یونس شہر میں ہونے والی انہدامی کارروائی میں براہ راست شریک تھا۔

تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مذکورہ فوجی کے ذاتی اکاؤنٹس سے ڈیجیٹل شواہد بھی اکٹھے کیے ہیں جن میں تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں جو غزہ کی پٹی میں خان یونس اور رفح کے آپریشنل علاقوں کے اندر اس کی عسکری موجودگی کو ثابت کرتی ہیں۔

اپنے بیان کے اختتام پر تنظیم ہند رجب نے عالمی برادری اور امریکی عدلیہ پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کا احتساب کرے۔

تنظیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ جنگ سے منسلک تمام تجاوزات کی دستاویزی شکل دینے اور مجرموں کا قانونی تعاقب جاری رکھے گی تاکہ اہم تنصیبات اور ہسپتالوں کی تباہی کے ذمہ داروں کو بین الاقوامی سزا سے بچنے نہ دیا جائے۔