جنوبی لبنان پر شدید فضائی حملوں میں مزید کئی شہری شہید، جنگ بندی کے لیے سیاسی رابطے

0
3

مرکزاطلاعات فلسطین

جنوبی لبنان میں فوجی ٹکراؤ کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جہاں بنت جبیل میں حزب اللہ اور قابض اسرائیلی فوج کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ یہ لڑائی شہر کے داخلی راستوں، اسٹیڈیم اور ٹیکنیکل کالج کے محور پر ہو رہی ہے، جبکہ اس دوران بڑے بازار کے داخلی راستے پر واقع مکانات کو بڑے پیمانے پر دھماکوں سے اڑانے کی کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔

قابض اسرائیل کے حملوں کا دائرہ جنوبی لبنان سے باہر تک پھیل گیا ہے، جہاں ایک اسرائیلی ڈرون نے ضہر البیدر روڈ پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ یہ سڑک صوفر گاؤں کو شتورا قصبے سے ملاتی ہے اور صوبہ جبل لبنان اور البقاع کے درمیان حدِ فاصل کا درجہ رکھتی ہے۔

اس کشیدگی کے تناظر میں آج دوپہر النبطیہ شہر کو شدید اسرائیلی فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا جو کسی "آتشی پٹی” سے کم نہ تھے۔ ان حملوں میں شہر کے صنعتی علاقے، جادہ نبہی بری پر واقع "سپر مارکیٹ التوفیر” کے قرب و جوار سمیت کفر رمان، ارنون، عبا اور یحمر الشقیف جیسی بستیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق، حبوش-نبطیہ ہائی وے پر کفروا بستی کے موڑ کے قریب ایک اسرائیلی ڈرون نے موٹر سائیکل کو نشانہ بنایا جس سے ایک شخص شہید ہو گیا۔ اسی طرح القاسمیہ کے علاقے میں ایک اور موٹر سائیکل پر ہونے والے حملے میں ایک شامی نوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے القاسمیہ کے قریب شامی مزدوروں کی ایک ورکشاپ کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 15 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ شہری دفاع کی ٹیموں نے زخمیوں کو صور شہر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا۔ اسی طرح الواسطہ کے علاقے میں ایک باغ میں ڈرون حملے سے تین شامی مزدور زخمی ہوئے۔

صہیونی فضائیہ نے ضلع صور میں واقع القاسمیہ پل کو بھی تباہ کر دیا، جس کے باعث اس علاقے میں دریائے لیطانی کے دونوں کناروں کو ملانے والا آخری راستہ بھی کٹ گیا ہے۔ یہ کارروائیاں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی اسرائیلی پالیسی کا حصہ ہیں۔

آج دوپہر کے وقت جنگی طیاروں نے زوطر الشرقیہ، عربصالیم کے اطراف، عین بوسوار اور کفر حونہ بستیوں پر بھی پے در پے حملے کیے، جو جنوبی لبنان میں جاری قابض اسرائیل کی سفاکیت کا تسلسل ہے۔

سیاسی محاذ پر، لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبہی بری نے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قاليباف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور لبنان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ قاليباف نے دوران گفتگو اس بات پر زور دیا کہ "لبنان میں سیز فائر کسی بھی دوسرے معاملے پر مقدم ہونا چاہیے” اور تہران و واشنطن کے درمیان ہونے والی مفاہمت میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ لبنانی صدر آج جمعرات کو قابض ریاست کے سربراہ سے براہ راست مذاکرات کریں گے، جو گذشتہ تین دہائیوں میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب قابض اسرائیل کی حکومت جنگ بندی کے لیے امریکی درخواست پر غور کر رہی ہے، تاہم اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ بنجمن نیتن یاھو نے فوج کو ہدایت جاری کی ہے کہ جنوبی لبنان میں نام نہاد "بفر زون” یا علاقہ غیر کو مزید مضبوط کیا جائے۔

صہیونی پولیٹیکل اینڈ سکیورٹی کابینہ کی رکن غیلا غملئیل نے اسرائیلی آرمی ریڈیو سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ بنجمن نیتن یاھو آج لبنانی صدر جوزف عون سے رابطہ کریں گے۔ تاہم، ایک لبنانی سرکاری ذریعے نے خبر رساں ایجنسی "فرانس پریس” کو بتایا کہ بیروت کو اب تک اسرائیلی جانب سے کسی متوقع رابطے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

یہ تمام تر تبدیلیاں 2 مارچ سنہ 2026ء سے جاری قابض اسرائیل کی اس جارحیت کے سائے میں ہو رہی ہیں جس کے نتیجے میں اب تک 2167 افراد شہید اور 7061 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دس لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ صہیونی ریاست کی طرف سے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر فلسطینیوں اور ان کے حامیوں کی نسل کشی کا شاخسانہ ہے۔