مرکزاطلاعات فلسطین
جنوب لبنان میں قابض اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان عسکری تصادم میں غیر معمولی تیزی آئی ہے، جس کے نتیجے میں ایک قابض اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔ یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں بڑھی ہے جب جاری سیز فائر کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور واشنطن میں بالواسطہ مذاکرات کی بحالی سے قبل جنوبی دیہاتوں کو خالی کرنے کے نوٹس، فضائی حملوں اور گولہ باری کا تبادلہ جاری ہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے جمعہ کو اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے داغے گئے ایک مارٹر گولے کی زد میں آکر اس کا ایک فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔ اس ہلاکت کے بعد قابض فوج نے جنوبی لبنان کی القدس گورنری کے قریبی ضلع صور کے 6 دیہاتوں کو بمباری سے قبل خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ قابض فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ عیلبون کے علاقے میں سائرن بجنے کے بعد لبنان سے شمال کی طرف داغے گئے ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے جنوب لبنان کے مختلف علاقوں پر وحشیانہ غارات کیں، جس کے جواب میں حزب اللہ نے قابض اسرائیل کے ٹھکانوں اور فوجی گاڑیوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ جمعہ کو ہی قابض فوج نے سیز فائر کی مدت ختم ہونے سے چند روز قبل اور واشنطن میں مذاکرات کی بحالی کے دوران پانچ مزید قصبوں کو خالی کرنے کی دھمکیاں دی ہیں۔
قابض فوج کے ترجمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صور شہر کے قریب واقع پانچ بستیوں شبريحا، حمادیہ، زقوق المفدی، معشوق اور الحوش کے مکینوں کو فوری گھر خالی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ قابض فوج سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کے بہانے حزب اللہ کے خلاف پوری قوت سے کارروائی کرے گی۔
ادھر حزب اللہ نے آج فجر کے وقت گذشتہ رات سے جاری اپنی پانچ عسکری کارروائیوں کی تفصیلات جاری کیں۔ بیان کے مطابق طیبہ نامی قصبے کے علاقے بیدر الفقعانی میں پیش قدمی کرنے والی قابض اسرائیلی فوج کو راکٹوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح بیاضہ کے مقام پر قابض فوج کے دستوں پر راکٹ باری اور توپ خانے سے حملہ کیا گیا، اور اس دوران امداد کے لیے آنے والے قابض اسرائیل کے میرکاوا ٹینک کو گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔
ایک اور کارروائی میں حزب اللہ کے مجاہدین نے رشاف سے ہداثا کی طرف بڑھنے والے قابض دشمن کے دو ڈی نائن (D9) بلڈوزر مسمار کر دیے۔ پہلے بلڈوزر کو سڑک پر نصب بم سے اڑایا گیا اور جب دوسرے نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو اسے بھی دھماکے سے تباہ کر دیا گیا، جس کے بعد قابض دشمن کے طیاروں نے ثبوت مٹانے کے لیے اپنے ہی دوسرے تباہ شدہ بلڈوزر پر فضائی حملہ کر کے اسے مکمل جلا دیا۔
حزب اللہ نے مزید بتایا کہ طیبہ کے شمالی علاقے میں پانی کے پمپ کی طرف دراندازی کرنے والی ایک قابض اسرائیلی فورس کو بارودی سرنگ کے دھماکے سے نشانہ بنایا گیا اور پھر ان پر گولہ باری کی گئی، جس سے دشمن کے سپاہی زخمی ہوئے اور وہ دھوئیں کی آڑ میں پسپائی پر مجبور ہو گئے۔ اس موقع پر قابض دشمن کے ہیلی کاپٹروں نے آکر زخمیوں کو وہاں سے نکالا۔ پانچویں کارروائی میں حزب اللہ نے جنوب لبنان کی فضائیں پامال کرنے والے قابض اسرائیل کے طیاروں اور ڈرونز پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل داغے۔
سیاسی محاذ پر لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری نے لبنانی اخبار الدیار سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کا انحصار حقیقی سیز فائر پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حقیقی سیز فائر نہ ہوا تو سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ لبنان کے مطالبات کے حوالے سے نبیہ بری کا کہنا تھا کہ ہم قابض اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء، تعمیر نو، لبنانی فوج کی تعیناتی اور اپنے بے گھر ہونے والے شہریوں کی باوقار واپسی سے کم کسی صورتحال پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کو اس بحران سے نکلنے کے لیے امریکہ کی سرپرستی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان علاقائی مفاہمت کی ضرورت ہے۔


