مرکزاطلاعات فلسطین
لبنان کے جنوب میں حزب اللہ کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے دھماکہ خیز ڈرون حملوں کی شدت میں اضافے نے قابض اسرائیلی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اندر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، ان حملوں نے قابض افواج کے مابین شدید افراتفری پیدا کر رکھی ہے۔
قابض اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے مطابق رامات دافید ایئربیس پر ہونے والے اعلیٰ قیادت کے اجلاس میں اس خطرے کو سر فہرست رکھا گیا، جبکہ قابض فوج نے منگل کے روز حزب اللہ کے ڈرون حملے میں اپنے دو فوجیوں کے زخمی ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔
قابض اسرائیلی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے دو بڑے خطرات کا سامنا ہے جن میں گراڈ میزائل اور خودکش ڈرونز شامل ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ محاذ آرائی میں ان جنگی ذرائع کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔
لبنان میں اس وقت برسرِ پیکار قابض اسرائیلی فوج کے فیلڈ کمانڈروں نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے دستیاب وسائل کی کمی پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے، توپ خانہ رجمنٹ کے کمانڈر نے ڈرونز کو ایک ایسا بڑا آپریشنل چیلنج قرار دیا ہے جس کے لیے جنگی طریقہ کار میں ازسرِ نو تنظیم کی ضرورت ہے۔
ایک غیر معمولی اعتراف میں ایک کمانڈر نے کہا کہ موجودہ ہدایات صرف ڈرونز نظر آنے پر الرٹ رہنے اور فائرنگ کرنے تک محدود ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ ہم زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض فوجی یونٹس میدانِ جنگ میں انتہائی ابتدائی اور دیسی حل تلاش کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں، جیسے فوجی ٹھکانوں اور عمارتوں کے اوپر جال لگانا تاکہ ڈرونز کو گرایا جا سکے، ایک اسرائیلی افسر نے ان اقدامات کو محض وقتی اور ناکافی قرار دیا ہے۔
روس یوکرائن جنگ اور سات اکتوبر سنہ 2023ء کے حملوں کے بعد سے اس خطرے کے بڑھنے کے واضح اشارے ملنے کے باوجود فوجی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ اسرائیلی فوج لبنان کی جنگ میں ڈرونز سے نمٹنے کے لیے ناکافی آلات کے ساتھ داخل ہوئی تھی۔
اس تناظر میں چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے فضائیہ کے سربراہ تومر بار کو اس خطرے کا مقابلہ کرنے میں ناکامی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے محدود علاقوں میں قابض فوجیوں کا ارتکاز انہیں حزب اللہ کے بارودی سرنگوں، میزائلوں اور ڈرون حملوں کے لیے آسان ہدف بنا رہا ہے۔
اخبار نے مزید کہا کہ سیز فائر کی باتوں کے باوجود میدانِ جنگ کی حقیقت ایک مسلسل جاری جنگ کی عکاسی کر رہی ہے جس میں روزانہ کی بنیاد پر جھڑپیں اور ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حزب اللہ نے اپنے ڈرون سسٹم کو نمایاں طور پر جدید بنا لیا ہے جو کم لاگت مگر انتہائی مؤثر ہے، یہ ڈرونز طویل فاصلے سے داغے جاتے ہیں اور آپٹیکل فائبر جیسی ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے انہیں تلاش کرنا یا فضا میں تباہ کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
ان حقائق کی روشنی میں قابض اسرائیلی فوج کے سپاہی خود کو ایک بڑھتے ہوئے خطرے کے سامنے بے بس محسوس کر رہے ہیں، جو میدانی چیلنجز اور دستیاب دفاعی صلاحیتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔


