حماس کا القسام بریگیڈز کے عظیم رہنما محمد عودہ کی شہادت پر گہرے رنج وغم کا اظہار

0
2

مرکز اطلاعات فلسطین

انتہائی فخر، اعزاز، مکمل ایمان و تسلیم، صبر و ثبات اور سرزمینِ فلسطین اور مقدسات کے دفاع کی راہ میں قربانی و جہاد کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے اسلامی تحریک مزاحمت حماس اپنے غیور فلسطینی عوام، عرب و مسلم امہ اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کو القسام بریگیڈز کے عظیم رہنما، غازی اور ہیرو شہید محمد عودہ (ابو عمرو) کی شہادت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔

حماس نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ عظیم رہنما محمد عودہ منگل کی شام چھبیس مئی سنہ 2026ء کو عرفہ کے مبارک دن اپنی زوجہ محترمہ اور دو بیٹوں کے ہمراہ غاصب صہیونی دشمن کی بزدلانہ اور غدارانہ بمباری کے نتیجے میں اپنے رب کے حضور سرخرو ہو کر پہنچ گئے۔ غاصب صہیونی فوج نے غزہ کی پٹی کے ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا، جو ہمارے غیور عوام کے صمود، عزم اور مزاحمت کو توڑنے کی ایک ناپاک اور ناکام کوشش ہے اور تمام انسانی اقدار، بین الاقوامی قوانین، اخلاقی اصولوں اور آسمانی شریعتوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عظیم رہنما ابو عمرو قربانی، صبر اور رباط سے بھرپور تین دہائیوں سے زائد طویل جہادی سفر مکمل کرنے کے بعد شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے ہیں۔ وہ جہادی اور عسکری کام کا آغاز کرنے والے بانیوں کے اس پہلے قافلے کا حصہ تھے جنھوں نے اس مبارک سفر کے تمام مراحل اور معرکوں میں، بالخصوص معرکہ طوفان الاقصیٰ تک، تعمیر، تیاری، منصوبہ بندی اور ہر پیشہ ورانہ، تکنیکی اور اکیڈمک سطح پر اپنی صلاحیتوں کے گہرے اور واضح نقوش چھوڑے۔ وہ منصوبہ بندی، رہنمائی، صلاحیتوں اور وسائل کو یکجا کرنے میں ایک بے مثال، دانا، باصلاحیت اور انتہائی مخلص رہنما کی بہترین مثال تھے۔ انہوں نے میڈیا کی چکا چوند اور نمود و نمائش سے دور رہ کر انتہائی خاموشی کے ساتھ پوری قوت، حکمت اور قابلیت سے کام کیا، یہاں تک کہ انہوں نے غزہ کی پٹی کی پاک دھرتی پر، عرفہ کے مبارک دن اپنی سب سے بڑی اور اعلیٰ ترین تمنا یعنی شہادت کا اعزاز پا لیا۔

حماس نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مجاہد رہنما شہید محمد عودہ (رحمہ اللہ) نے تین دہائیوں تک بانی رہنماؤں کی پہلی نسل کے ہمراہ رفاقت کا سفر طے کیا۔ وہ انتہائی زاہد، عاجز، بہادر، دانا، امانت دار اور سچے انسان تھے جو ہر لمحہ تیاری، تعمیر اور عسکری منصوبہ بندی کے محاذ پر ڈٹے رہے۔ وہ طویل عرصے تک قابض صہیونی دشمن کے مفرور اور مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل رہے، یہاں تک کہ ربِ ذوالجلال کے چناؤ کا وقت آ پہنچا اور وہ اپنے رفقائے کار اور دیگر عظیم شہید رہنماؤں کے کاروان میں شامل ہو گئے۔ وہ اپنے پیچھے ایک عظیم الشان علمی و عسکری ورثہ، مؤثر نقوش اور ایک معطر سیرت چھوڑ گئے ہیں جو اللہ کے حکم سے ہماری آنے والی فلسطینی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ اور رول ماڈل رہے گی۔

حماس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہید رہنما محمد عودہ ان کے اہل خانہ اور ہماری سرزمین اور مقدسات کی آزادی کے لیے جانیں نچھاور کرنے والے صابر فلسطینی عوام اور دیگر رہنماؤں کا خونِ ناحق کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ یہ پاکیزہ خون ہمارے غیور عوام میں غاصب دشمن کے خلاف جدوجہد، صمود اور مزاحمت کے راستے پر چلنے کے لیے ایک ایسا ایندھن بنے گا جو ان کے عزم کو مزید جلا بخشے گا۔ قابض صہیونی فاشسٹ حکومت کی طرف سے غزہ کی پٹی میں ٹارگٹ کلنگ، محاصرے اور بھوک و افلاس کو ہتھیار بنا کر ڈھائی جانے والی سفاکیت کے جرائم میں تیزی لانا ان کے ان ناپاک مقاصد کو پورا کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا جن کے حصول میں وہ اب تک بری طرح ناکام رہے ہیں اور نہ ہی یہ ہمارے عوام اور ان کی سرفروش مزاحمت کے فولادی عزم کو توڑ سکے گا۔

بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے عظیم مجاہد رہنما شہید محمد عودہ (ابو عمرو) پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ہمراہ اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے، اور یہ کتنے ہی بہترین رفیق ہیں۔ ہم اللہ رب العزت سے ان مبارک دنوں میں گریہ و زاری کرتے ہوئے دعا گو ہیں کہ وہ ہمارے مظلوم عوام اور مسلم امت کو اس غاصب، ظالم اور وحشی صہیونی ریاست کے مکر، فریب اور شر سے ہمیشہ محفوظ و مامون رکھے۔