مرکز اطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کے مسلسل حملوں اور ان کے نتیجے میں سویلین شہریوں میں گرنے والے شہداء اور زخمیوں کے پیش نظر ایک سخت اور فیصلہ کن بین الاقوامی موقف اختیار کرنے کی پرزور اپیل کی ہے۔
جماعت نے ایک پریس ریلیز میں دلدوز موقف اپناتا ہوئے کہا ہے کہ غاصب صہیونی لشکر جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہونے کے باوجود غزہ کی پٹی کے اندر سویلین شہریوں کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے اور اپنے وحشیانہ فوجی آپریشنز کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گذشتہ رات غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر ہونے والی بمباری، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 10 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر گئے، جنگ بندی کے لیے طے پانے والے معاہدوں کے باوجود فلسطینیوں کے خلاف جاری رہنے والی نسل کشی اور جنگ ہی کا ایک تسلسل ہے۔
حماس نے اس بات پر گہرا دکھ اور غصہ ظاہر کیا ہے کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اور جنگ بندی معاہدے کے ضامن ممالک و فریقین کی جانب سے غاصب دشمن کو روکنے کے لیے کسی بھی قسم کے سخت اقدامات نہ کرنا مجرمانہ حد تک سستی ہے، جو قابض اسرائیل کو اپنی فوجی سفاکیت جاری رکھنے کی شہ دیتا ہے۔
تحریک نے واضح کیا کہ ان ریشہ دوانیاں کا واحد مقصد غزہ کی پٹی پر ایک بار پھر جنگ کو مسلط کرنا اور یہاں کے مظلوم باسیوں کو جبری طور پر بے وطن کرنے کے مذموم منصوبوں پر عمل درآمد کرنا ہے۔
حماس نے جنگ بندی معاہدے کے ضامن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ہولناک خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اپنی سیاسی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کریں اور ساتھ ہی دنیا بھر کی غیور عوام سے اپیل کی کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی سرگرمیوں کو مزید تیز کریں۔
ایسی ہی ایک دلدوز پیش رفت میں، غزہ کی پٹی پر جنگ بندی اور جارحیت کے خاتمے کے معاہدے کی قابض اسرائیل کی جانب سے مزید 14 نئی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں آج صبح سے اب تک 10 فلسطینی جاں بحق اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان خلاف ورزیوں میں گنجان آباد رہائشی اپارٹمنٹس پر بمباری، فائرنگ کے واقعات اور پٹی کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی شدید توپ خانہ کی گولہ باری شامل ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ غاصب اسرائیلی افواج مصر کے شہر شرم الشیخ میں عرب اور امریکی ثالثی کے تحت دستخط ہونے والے جنگ بندی اور سیز فائر معاہدے کی صریح خلاف ورزیاں مسلسل 238 ویں دن بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، جس پر دستخط دس اکتوبر سنہ 2025ء کو کیے گئے تھے۔
غزہ کی پٹی میں وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ ہولناک اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گیارہ اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک غاصب دشمن کی غداری کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 947 ہو چکی ہے، جبکہ 2935 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
وزارتِ صحت کے آفیشل ڈیٹا کے مطابق، سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر مسلط کی جانے والی اس وحشیانہ جارحیت اور نسل کشی کے کل شہداء کی مجموعی تعداد تقریباً 72 ہزار 956 ہو چکی ہے، جبکہ زخمی ہونے والے مظلوموں کی تعداد بڑھ کر 1 لاکھ 73 ہزار 43 تک پہنچ گئی ہے۔


