مرکز اطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی کی منڈیوں میں اس وقت شدید معاشی جمود اور تاریخی مندی کا ایک غیر مسبوق سماں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال قابض اسرائیل کی مسلط کردہ ہولناک جنگ کے تباہ کن اثرات، سخت ناکہ بندی کی ظالمانہ پالیسیوں اور مختلف معاشی شعبوں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے درکار اشیاء اور خام مال کی آمد پر لگائی گئی سخت ترین پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔
غزہ کی پٹی کے باسی اپنے معیشت کے گرتے ہوئے ڈھانچے، بے روزگاری کی ہولناک شرح، کمر توڑ غربت اور آمدن کے ذرائع بالکل ختم ہو جانے کے باعث شدید ترین مڈبھیڑ اور انسانیت سوز حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان سنگین عوامل نے براہ راست مقامی لوگوں کی خریداری کی سکت کو بالکل ختم کر دیا ہے اور تجارتی مراکز میں کاروباری زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
جنگ کے طویل مہینوں اور اس کے بعد ہونے والے جنگ بندی کے ادوار کے دوران بھی یہ معاشی بحران قابض اسرائیل کی جانب سے تجارتی سامان اور ٹرکوں کی آمد پر عائد کردہ مسلسل پابندیوں کی وجہ سے مزید پیچیدہ اور سنگین ہو گیا ہے۔ غاصب دشمن نے بڑے معاشی شعبوں کو بدستور تباہی کے دائرے میں رکھا ہوا ہے جس کے باعث پیداواری عمل کی بحالی یا معیشت کے دوبارہ پاؤں پر کھڑے ہونے کا کوئی حقیقی امکان نظر نہیں آتا۔
یہ رپورٹ روزنامہ ’العربی الجدید‘ میں شائع ہونے والی ان فیلڈ تفصیلات اور عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی ہے جس میں قابض اسرائیل کی مسلسل پابندیوں اور سنگین ہوتے ہوئے انسانی بحران کے سائے میں غزہ کی منڈیوں کی تلخ حقیقت کا احاطہ کیا گیا ہے۔
خام مال اور کارخانے چلانے کے لیے بنیادی ساز و سامان کی آمد پر لگائی جانے والی اس پابندی نے سینکڑوں فیکٹریوں اور تجارتی اداروں کو تالے لگانے پر مجبور کر دیا ہے جس کی وجہ سے سپلائی چین مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے اور معاشی سرگرمیاں خطرناک حد تک گر چکی ہیں۔
کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر
مقامی فلسطینی شہری محمود عرندس نے اپنی داستانِ غم سناتے ہوئے کہا کہ آمدن کے ذرائع نہ ہونے اور اپنے اہل خانہ کے لیے بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی سے عاجز آ جانے کے باعث اب حالات ناقابل برداشت حد تک سخت ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اب منڈیوں کا رخ کرنا صرف دکانوں پر سجا سامان دیکھنے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے کیونکہ اب خریداری کرنا کسی کے بس میں نہیں رہا سوائے انتہائی ناگزیر ضرورت کے۔
محمود عرندس نے مزید بتایا کہ البريج کیمپ کے اندر شربت اور آئس کریم کی وہ دکان جہاں وہ کام کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے، وہ اس ہولناک جنگ کے دوران مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جس سے ان کے روزگار کا واحد ذریعہ بھی چھن گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا خاندان اب صرف انسانی امداد اور لنگر خانوں سے ملنے والے کھانے پر ہی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ سے قبل بھی معاشی حالات کچھ بہت زیادہ ’اچھے نہیں تھے‘ لیکن اس وقت خاندان اپنے روزمرہ کے معاملات سنبھالنے اور بنیادی ضروریات خریدنے کے قابل ضرور تھے، مگر آج کے اس بھیانک دور میں یہ سب کچھ بالکل ناممکن ہو چکا ہے۔
غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں قائم بازار اس وقت خود پر بیتنے والے معاشی اور انسانی بحران کی گواہی دے رہے ہیں جہاں خرید و فروخت کا عمل نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے اور اکثر خاندان بنیادی اشیائے خور و نوش کی فراہمی سے بھی بالکل عاجز آ چکے ہیں۔
غزہ شہر کے مغرب میں واقع الشاطی کیمپ کی مارکیٹ کا منظر بھی اس سے مختلف نہیں ہے جہاں کپڑوں کے ایک دکاندار عائد ابو مطر شدید معاشی بدحالی اور آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کے باعث خریداروں کے قحط کا سامنا کر رہے ہیں اور مایوسی کے عالم میں اپنے کاؤنٹر پر بیٹھے ہیں۔
عائد ابو مطر کا کہنا ہے کہ وہ تجارتی سیزن جو پہلے آمدن بڑھانے اور منڈیوں میں چہل پہل کا ایک بہترین موقع ہوا کرتے تھے، اس موجودہ دور میں اپنی تمام تر اہمیت کھو چکے ہیں۔ انہوں نے رنجیدہ دلی سے کہا کہ خریداری کی سکت اس حد تک ختم ہو چکی ہے کہ بڑے بڑے سیزن بھی اب بالکل عام اور مرجھائے ہوئے دنوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ بحران صرف عام شہریوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب اس کی لپیٹ میں وہ تاجر اور دکاندار بھی آ چکے ہیں جو قیمتوں کے اس غیر مستحکم اتار چڑھاؤ کے باعث مسلسل مالی نقصانات کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیزن کے آغاز میں کپڑوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا جس کے بعد ان میں کچھ کمی تو آئی لیکن یہ اب بھی لوگوں کی عام پہنچ اور معمول کی قیمتوں سے بہت زیادہ اوپر ہیں۔
تباہی کی گواہی دیتے لرزہ خیز اعداد و شمار
دوسری جانب چیمبر آف کامرس کی اقتصادی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر ریاض السوافيري نے بتایا کہ غزہ کی منڈیاں اس وقت شدید ترین کساد بازاری کے دور سے گزر رہی ہیں جس کی بڑی وجہ قابض اسرائیل کی وہ مسلسل پالیسیاں ہیں جو سامان کی نقل و حمل کو روکتی ہیں اور شہریوں اور تاجروں پر معاشی بوجھ کو مسلسل بڑھا رہی ہیں۔
ریاض السوافيري نے اس معاشی بحران کو سنگین تر کرنے کی تمام تر ذمہ داری قابض اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ منڈیوں کے اندر موجود بعض کٹھ پتلی تجارتی مہرے تجارتی اجازت ناموں اور سامان لانے پر بھاری ٹیکس اور فیسیں عائد کر کے قیمتوں کو مزید آگ لگا رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی سرگرمیوں میں اب یہ تباہی بالکل واضح ہو چکی ہے، انہوں نے اپیل کی کہ بعض تاجروں کی ان اجارہ دارانہ پالیسیوں کا سختی سے سدباب کیا جائے جو ایک ایک ٹرک لانے کے لیے 200 ہزار شیکل سے زائد کی خطیر رقم وصول کر رہے ہیں، جبکہ غزہ کے باسی اس وقت تاریخ کے مشکل ترین انسانی حالات سے گزر رہے ہیں۔
اسی تناظر میں ماہر اقتصادیات محمد الدریملی نے غزہ کی منڈیوں کی حالت زار کو انتہائی ’تباہ کن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل کی سخت ترین پابندیاں معیشت کو دوبارہ بحال ہونے سے روک رہی ہیں اور تمام پیداواری و تجارتی شعبوں کو مفلوج کر چکی ہیں۔
محمد الدریمللی نے لرزہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بے روزگاری کی شرح اب بڑھ کر تقریباً 80 فیصد تک جا پہنچی ہے جو اس معاشی ٹوٹ پھوٹ کا ایک انتہائی خطرناک اشارہ ہے، جبکہ دوسری طرف غربت اور غذائی عدم تحفظ کی شرح 90 فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت غزہ کی تقریباً 95 فیصد آبادی اپنی بقا کے لیے صرف اور صرف بیرونی غذائی امداد پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی راستوں اور گزرگاہوں کی مسلسل بندش، سامان، خام مال اور تجارتی ٹرکوں کے داخلے پر پابندی کی وجہ سے شہریوں کی حقیقی ضرورت کا 70 فیصد سے زائد سامان مارکیٹوں سے بالکل غائب ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں نقدی کی شدید قلت نے بھی خرید و فروخت اور معاشی سرگرمیوں کو براہ راست اپنے پنجے میں جکڑ لیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سنہ 2025ء کے دوران غزہ کی معیشت میں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 87 فیصد کی ہولناک گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جو اس غیر مسبوق تباہی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کا سامنا اس وقت پوری پٹی کو ہے۔
ان سخت معاشی پابندیوں اور سامان و خام مال کے داخلے پر لگی روک ٹوک کے جاری رہتے ہوئے، غزہ کے بازار بدستور اس گھٹن زدہ مندی کے اندھیرے کنویں میں ڈوبے ہوئے ہیں جو معاشی زندگی کی رہی سہی رمق کو بھی ختم کر رہی ہے۔ اس المناک صورتحال میں جنگ کے دوران پیدا ہونے والی اجارہ داری نے بنیادی اشیاء کی قیمتوں کو 300 فیصد سے بھی زیادہ بڑھا دیا ہے، کیونکہ اب چند مخصوص تاجر اور مڈل مین ہی غزہ کے اندر موجود اس انتہائی قلیل سامان اور مقدار کو اپنی مرضی کی قیمتوں پر کنٹرول کر رہے ہیں۔


