رام اللہ: دیوار اور غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے خلاف مزاحمتی کمیشن کے سربراہ مؤید شعبان نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں الیکٹرانک "لینڈ رجسٹری اور حقوق کے بندوبست” کے نظام کا اجراء، قابض حکومت کے بتدریج اور خاموش الحاق (قبضے) کے منصوبے کا ایک نیا اور خطرناک حصہ ہے۔ یہ کھلے عام اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ قبضہ گیر روایتی زمینی کنٹرول کی پالیسیوں سے ہٹ کر اب ڈیجیٹل اور انتظامی استعماری انجینئرنگ کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر مستقل قانونی حقائق مسلط کرنا ہے۔
شعبان نے مزید کہا کہ یہ نظام، جسے قابض حکام نے مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہوئے "دستی بم” (ہینڈ گرنیڈ) کا خفیہ نام دیا ہے، محض کوئی تکنیکی قدم یا زمین کے ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرنے کا عمل نہیں ہے۔ بلکہ یہ اسرائیلی استعماری وژن کے مطابق مغربی کنارے میں جائیداد کی ملکیت کو دوبارہ ترتیب دینے کا ایک مرکزی ہتھیار ہے۔ یہ منصوبہ مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے اور خاص طور پر (ج / C) کیٹیگری کے علاقوں میں فلسطینی شہریوں کی وسیع اراضی پر قبضے کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ فلسطینی خبر رساں ادارہ ‘وفا’، 28 مئی 2026


