مرکز اطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی پر غاصب اسرائیل کی طرف سے جاری نسل کشی اور وحشیانہ جنگ کے آغاز کے بعد اپنی نوعیت کے پہلے واقعے میں غزہ شہر کے العودہ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ایک فلسطینی مریضہ کی آنکھ کے قرنیے (کارنیا) کی پیوند کاری کا کامیاب آپریشن کیا ہے۔ یہ آپریشن ایک ایسے فلسطینی نوجوان کے عطیہ کردہ قرنیے سے ممکن ہوا جو اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہو گیا تھا اور یہ کامیابی غاصب دشمن کے سخت محاصرے اور غزہ کی پٹی میں قرنیوں اور طبی سامان کے داخلے پر عائد پابندی کے باوجود حاصل کی گئی ہے۔
ہسپتال کے ڈائریکٹر اور کارنیا ٹرانسپلانٹ کے مشیر ڈاکٹر حسام داوود کی سربراہی میں ایک ماہر طبی ٹیم نے یہ آپریشن 33 سالہ مریضہ بیروت النخالہ کا کیا جو قرنیہ کی خرابی (کیروٹوکونس) کے مرض میں مبتلا تھیں اور ان کی بائیں آنکھ کی بینائی تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی۔
پیوند کیا جانے والا یہ قرنیہ ایک ایسے غیور فلسطینی کا تھا جس نے غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے میں واقع جبالیہ کیمپ پر ہونے والی اسرائیلی بمباری میں جامِ شہادت نوش کرنے سے پہلے اپنے اعضاء عطیہ کرنے کی وصیت کی تھی۔ یہ شہادت سولہ مئی سنہ 2026ء کو ہوئی تھی اور اس اقدام کو کارنیا ٹرانسپلانٹ کے قومی پروگرام کے احیاء کے لیے امید کی ایک نئی کرن قرار دیا جا رہا ہے جو جنگ کی وجہ سے مہینوں سے معطل تھا۔
جنگ کے دوران بڑھتی ہوئی مشکلات
مریضہ بیروت النخالہ نے اناطولیہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ غاصب دشمن کی جارحیت کے دوران مسلسل نقل مکانی، بارود کے دھویں اور بجلی کی مسلسل بندش کے باعث ان کی صحت اور بینائی کی حالت شدید ابتر ہو گئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ بنیادی طور پر اپنی دائیں آنکھ پر انحصار کر رہی تھیں لیکن جنگ کے ان ظالمانہ اور انتہائی کٹھن حالات کے تسلسل کی وجہ سے وہ آنکھ بھی کمزور ہو گئی جبکہ ان کی بائیں آنکھ کی بینائی بالکل ختم ہو چکی تھی اور وہ صرف چند سینٹی میٹر تک ہی دیکھ پاتی تھیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کا نام علاج کے لیے غزہ کی پٹی سے باہر بھیجے جانے والے مریضوں کی فہرست میں شامل تھا لیکن سرحدوں اور گزرگاہوں کی مسلسل بندش اور زخمیوں و مریضوں کے انخلاء کا عمل معطل ہونے کی وجہ سے وہ سفر کرنے سے محروم رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس سفاکانہ جنگ اور محاصرے کے سائے میں غزہ کے اندر قرنیے کی پیوند کاری کے آپریشن کی کوئی امید نہیں تھی لیکن جب ہسپتال کی طرف سے انہیں فون پر یہ خوشخبری دی گئی کہ ان کا آپریشن ممکن ہے تو یہ ان کے لیے ایک غیر متوقع اور خوشی کا لمحہ تھا۔
انہوں نے شہید کے اہل خانہ کا بھی بے حد شکریہ ادا کیا جنہوں نے قرنیہ عطیہ کرنے کی منظوری دی اور کہا کہ شہید اس دنیا سے رخصت ہو کر بھی دوسروں کو زندگی اور امید کا تحفہ دے گیا۔
کارنیا ٹرانسپلانٹ پروگرام کی بحالی
دوسری جانب ڈاکٹر حسام داوود نے کہا کہ یہ آپریشن کارنیا ٹرانسپلانٹ کی اس قومی مہم کی بحالی کا پہلا کیس ہے جو جنگ کے آغاز کے بعد سے مکمل طور پر بند ہو چکی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ طبی عملے نے گذشتہ مہینوں کے دوران اس پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے تقریباً تین ماہ کی انتھک کوششوں کے بعد جراحی کے دھاگے، اوزار اور ضروری طبی سامان کی کم از کم مقدار فراہم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت 300 سے زائد مریض کارنیا ٹرانسپلانٹ کے لیے ویٹنگ لسٹ میں رجسٹرڈ ہیں کیونکہ ان میں سے اکثریت کے لیے غزہ کی پٹی سے باہر جا کر علاج کروانا ناممکن ہو چکا ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل کے محاصرے اور گزرگاہوں کی بندش کے باعث باہر سے قرنیے منگوانا اب تقریباً ناممکن ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹروں کو شہداء اور وفات پا جانے والے افراد کے لواحقین کی رضامندی سے مقامی سطح پر عطیات پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
ڈاکٹر داوود نے عالمی اداروں اور صحت کے شعبے کی معاونت کرنے والے ممالک سے اپیل کی کہ وہ کارنیا ٹرانسپلانٹ کے آپریشنز کو جاری رکھنے کے لیے بنیادی طبی سامان فراہم کریں جس میں جراحی کے مخصوص دھاگے، قرنیہ محفوظ رکھنے والے کیمیکلز اور جراحی کے خصوصی اوزار شامل ہیں۔
شدید تر ہوتا ہوا طبی بحران
غزہ کی پٹی کا طبی نظام غاصب دشمن کی جنگ اور محاصرے کے نتیجے میں مسلسل تباہی کا شکار ہے اور وہاں ادویات و طبی سامان کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے جبکہ ماہرانہ طبی خدمات کی عدم دستیابی کے باعث سینکڑوں مریضوں کو مستقل اندھے پن کا خطرہ لاحق ہے۔
غزہ میں وزارتِ صحت مہینوں سے ہزاروں مریضوں اور زخمیوں کے فوری طبی انخلاء کا مطالبہ کر رہی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ جن محدود افراد کو باہر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے وہ غزہ کے سنگین انسانی حالات اور ضروریات کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔
فلسطینی ہلالِ احمر سوسائٹی کے ترجمان رائد النمس کے گذشتہ بیانات کے مطابق 18 ہزار سے زائد مریض اور زخمی اب بھی غزہ کی پٹی سے باہر طبی انخلاء کے منتظر ہیں۔
اس جنگ سے پہلے روزانہ سینکڑوں فلسطینی علاج اور سفر کے لیے گزرگاہوں سے گزرا کرتے تھے جبکہ قابض اسرائیل نے دس اکتوبر سنہ 2025ء کو نافذ العمل ہونے والے سیز فائر معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت ان گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس نے اپنے اس عہد پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے قابض اسرائیل امریکہ کی بھرپور حمایت کے ساتھ غزہ کی پٹی پر اپنی وحشیانہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور تقریباً 172 ہزار زخمی ہو چکے ہیں جبکہ غزہ کی پٹی کا تقریباً 90 فیصد سویلین انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
اسی تناظر میں عالمی ادارہ صحت نے جمعہ کے روز مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صحت کی صورتحال کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں غزہ کی پٹی میں صحت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پیدا ہونے والی ہولناک تباہی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور فلسطینی طبی نظام کی بحالی کے لیے ہنگامی فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


