شیر کی دھاڑ سے بلی کی میاؤں تک” — اسرائیل لبنان جنگ بندی کی حیران کن اندرونی کہانی

0
95

تلخیص: کاشف منظور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان اچانک 10 روزہ جنگ بندی کے اعلان نے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی اور عسکری منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ کوئی باقاعدہ دو طرفہ معاہدہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کچھ اور ہی محرکات ہیں:

اسرائیلی قیادت سکتے میں:** اسرائیلی کابینہ اور فوج کو اس اعلان کا علم میڈیا سے ہوا۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بائی پاس کیا جس سے اسرائیلی حلقوں میں شدید شرمندگی اور غصہ پایا جاتا ہے۔ اپوزیشن نے اسے "شمالی باشندوں سے غداری” قرار دیا ہے۔

اہداف میں ناکامی:** اسرائیلی فوج اپنے بنیادی اہداف (دریائے لیطانی تک رسائی اور حزب اللہ کا خاتمہ) حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حزب اللہ کی جوابی کارروائیاں اور میزائل فائر کرنے کی صلاحیت تاحال پوری طرح برقرار ہے۔

اصل کھلاڑی کون؟** تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ جنگ بندی لبنان اور اسرائیل کا نہیں بلکہ امریکہ اور ایران کی پسِ پردہ مفاہمت کا نتیجہ ہے۔ تہران نے جنگ بندی کو لبنان آپریشن کے خاتمے سے مشروط کیا تھا اور اس میں کامیاب رہا۔

مستقبل کا منظرنامہ:** یہ محض ایک عارضی وقفہ ہے، جنگ کا مستقل خاتمہ نہیں۔ زمینی انخلاء کا کوئی لائحہ عمل موجود نہیں، جس کا مطلب ہے کہ یہ خطے کی اس بڑی اور نئی صف بندی کا محض ایک حصہ ہے جس کے خدوخال ابھی واضح ہونا باقی ہیں۔

کیا یہ 10 روزہ مہلت کسی مستقل امن کی طرف لے جائے گی یا یہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے؟

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں