طولکرم میں قابض فوج کی فائرنگ سے نوجوان زخمی اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کی غنڈہ گردی

0
3

مرکز اطلاعات فلسطین

فلسطینی سرزمین پر جاری سنگین صیہونی جرائم کے تسلسل میں منگل کے روز دوپہر کے وقت طولکرم کیمپ کے مضافات میں قابض اسرائیل کی ظالم افواج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان شدید زخمی ہو گیا جبکہ دوسری طرف مقبوضہ بیت المقدس میں انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے وحشیانہ حملوں کا ارتکاب کیا ہے۔

مقامی ذرائع نے رپورٹ کیا ہے کہ کیمپ کے اندر پوزیشن سنبھالے ہوئے قابض اسرائیل کی پُرشدد افواج نے البلاونہ محلے کے قریب کیمپ کے داخلی راستے پر موجود ایک نہتے نوجوان پر اندھا دھند سیدھی گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں وہ پاؤں میں گولی لگنے سے زخمی ہو گیا، زخمی نوجوان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

غاصب صیہونی دشمن کی غاصب افواج نے طولکرم شہر اور اس کے دو کیمپوں طولکرم اور نور شمس کے خلاف مسلسل 478 ویں دن بھی اپنی ظالمانہ جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، اس دوران علاقے کا سخت ترین محاصرہ کر رکھا ہے اور معصوم شہریوں کے مکانات پر زبردستی قبضہ کر کے ان کے باشندوں کو جبری طور پر بے دخل کر دیا گیا ہے تاکہ ان گھروں کو عسکری بیرکوں میں تبدیل کیا جا سکے جبکہ کسی بھی مظلوم شہری کو کیمپ کے اندر اپنے گھر تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

دوسری جانب ز متعصب یہودی آباد کاروں نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مغرب میں واقع الحثرورہ بستی میں معصوم فلسطینی چرواہوں پر بزدلانہ حملہ کر دیا۔

القدس گورنری نے تصدیق کی ہے کہ یہودی آباد کاروں کے ایک شرپسند گروہ نے بستی پر دھاوا بولا اور وہاں مویشی چرانے والے نہتے شہریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

گورنری نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ حملہ اس علاقے میں فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک کے خلاف یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے جارحانہ حملوں اور غنڈہ گردی کا ایک حصہ ہے۔

یاد رہے کہ الحثرورہ بستی دراصل بدوؤں کی اسی خان الاحمر بستی کا ایک حصہ ہے جو سنہ 2018ء سے یہودی آباد کاروں کے منظم اور وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنی ہوئی ہے، ان حملوں کی شدت میں سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد سے فلسطینیوں کے نصب العین کو کچلنے کے لیے ہولناک حد تک اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ یہاں کے باسیوں کو بے دخل کر کے جبری ہجرت پر مجبور کیا جا سکے، واضح رہے کہ اسی بستی کو فوری طور پر خالی کرانے کا حکم آج ہی قابض اسرائیل کے وزیر مالیات نے جاری کیا ہے۔