مرکز اطلاعات فلسطین
قابض اسرائیل کی فوج نے پیر کی صبح غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں توپ خانے سے گولہ باری اور فائرنگ کی کارروائیاں کی ہیں۔ یہ جارحانہ اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنگ بندی کے معاہدے کی زمینی سطح پر خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی توپ خانے نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا جبکہ اسی دوران علاقے کی فضاؤں میں روشنی والے بم بھی پھینکے گئے۔
نامہ نگار نے مزید بتایا کہ قابض فوج نے خان یونس کے مشرق میں واقع بنی سہیلہ چوک پر صلاح الدین روڈ کے قریب دھواں پیدا کرنے والے بم بھی پھینکے جبکہ ان کی عسکری گاڑیوں نے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں کی جانب فائرنگ کی۔
یہ پیش رفت اتوار کی شام غزہ شہر کے مغرب میں واقع النصر محلے میں قابض اسرائیل کے ایک فضائی حملے کے نتیجے میں چار شہریوں کی شہادت اور دیگر کے زخمی ہونے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔
قابض اسرائیل کی فوج جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے باوجود غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں گولہ باری اور فائرنگ کے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ غزہ میں گذشتہ دس اکتوبر سنہ 2025ء سے بار بار خلاف ورزیاں دیکھی جا رہی ہیں۔
مبصرین اور انسانی حقوق کے ادارے ان خلاف ورزیوں کے تسلسل کے سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں جبکہ انسانی حالات بدستور ابتر ہیں اور پٹی کے تمام حصوں میں شہریوں کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔


